::*Urdu Books*::
::*Urdu Books*::
    Quick Search
 
Title Author Publisher
            Members Area
Username:
Password:
                                                                  Forget Password
Special Offer  
see all subjects
No Item in cart
Business & Technical > Management > Kamiyab Businessman Banay  
Book Detail
 
 
Kamiyab Businessman Banay
کامیاب بزنس مین بنۓ  
Author/Translator: Muhammad Qayyum 
Price: $ 8.57
Format: Hard Cover, 399Pages, Weight: 610 gm
Product-Id: 1011178
Publisher: Sagar Publications
Publish date: 2001
Productid:1011178  
Quantity:
 

 

آداب

مینجمنٹ ایک لائحہ عمل ہے،جس کی تاریخ اتنی ہی قدیم ہے- جتنی کہ نوع انسانی کی تاریخ!کیوں؟ اسلیے کہ وہ پہلا انسان،جسے زمین پر اتارا گیا تھا اسے اپنے روح اور جسم کو یکجا رکھنے کے لیے رزق کی تلاش تھی اور اس تلاش و جستجو کے لیے اس نے اپنے ذہن میں جو خاکہ بنایا ہو گا وہ مینجمنٹ کا پہلا نظریہ اور پہلا لائحہ عمل تھا- جو اس کرہ ارض پر اختیار کیا گیا تھا- جیسے جیسے کرہ ارض پر اولاد آدم پھیلتی گئی،تلاش رزق کا عمل پیچیدگی اختیار کرنے لگا،اسی نسبت سے مینجمنٹ کی اہمیت اور طریقہ کار بھی بدلنے لگے- حتی کہ "شکار" کی تقسیم کے وقت انسانوں کے ایک گروہ کے درمیان نزاع پیدا ہو گیا،انسان انسان سے الجھ پڑا،پھر وہ اکیلا بے بس انسان جس کے ہاتھ میں ایک بڑی ہڈی آ گئی- اس نے اس ہڈی کو بطور پہلا ہتھیاراستعمال کرکے اپنے ساتھی شکاریوں کو مار بھگایا،وہ ایک تاریخی لمحہ تھا- اس لمحے انسان نے نادائستگی میں سہی،مینجمنٹ کا اسلوب بدل دیا تھا- اب مینجمنٹ کے بجاۓ ہتھیاروں سے کی جانے لگی،مینجمنٹ بذریعہ تشدد کا اسلوب اپنالیا گیا ۔

وقت کے ساتھ ساتھ اس ہڈی نے چھڑی کا روپ دھارا،پھر یہ ہڈی تلوار بن گئی،تلوار سے تیر اور تیر سے ایٹم بم تک اس نے سینکڑوں انداز اپناۓ پھر یہ ہڈی،مشینوں سے کمپیوٹر اور کمیپوٹر سے سپرکمپیوٹر میں تبدیل ہو گئی- آج اس کرہ ارض پر جو انسان بطور منیجر،ان جدید ترین ہتھیاروں سے لیس ہے- وہی اس دنیا کا سپر لیڈر کہلاتا ہے ۔

صدیوں تک یہ ہڈی چھڑی اور کوڑوں کی صورت میں انسان کی ننگی پشت پر برستی رہی،کوڑے کھانے والے،یہ انسان،اپنے ہم جنسوں کے لیے سہولتیں اور خدمات تخلیق کرتے رہے- انسان کو غاروں سے نکال کر،سطح زمین پر آباد کرنے کا ذریعہ بنتے گۓ- انکے لیے شکار کرکے لانے لگے،پھر انکی بڑھتی ہوئی احتیاجوں کے پیش نظر انکے لیے کھیتی باڑی کرنے لگے،جنگلی جانوروں کو سدھانے لگے،انکی پیٹھ پر کوڑا برستا گیا اور وہ انسانی تہذیب و تمدن کو فروغ دینے کے لیے اپنا خون پسینہ ایک کرنے لگے،انسانوں نے اپنے ننگے بدن کو درختوں کے پتوں کی بجاۓ اب کھردرے کپڑے سے ڈھانپنا شروع کر دیا لیکن کھیت اور کھلیان اور انکی پیداوار نے انسانی معاشرے کو مختلف طبقات میں تقسیم کر دیا- تاہم مینجمنٹ کا سفر جاری رہا ۔

 

شاہ بلوط کا پھل

اصول پھلداری کا صاف مطلب ہے کہ انسان کی تیز رفتار درست اور آسان ترین نشوونما اسکی اپنی ذاتی خوبیوں سے ہی ممکن ہو سکتی ہے- بلوط کے پھل کی تمثیل سے واضح کرنا مراد ہے کہ زیادہ ترلوگ،دوسرے لوگوں پر نظر رکھنے کے عادی ہوتے ہیں کہ وہ انھیں ایسا بنا دیں گے جیسا کہ وہ چاہتے ہیں- یعنی انکی زندگی کا رخ یا دھارا موڑ دیں گے،ان میں ایسی تبدیلی بروۓ کار لائیں گے جس سے انکی زندگی سنور جاۓ گی ۔

لیکن ایک درخت کی طرح،ہر انسان کے اندر اسکی صلاحتیوں کا بیج ہوتا ہے،جس طرح درخت اپنے اصل بیج کی خصوصیات کا حامل ہوتا ہے،اسطرح انسان اپنے اندر موجود بیج کی خوبیوں اور خامیوں کا مجموعہ ثابت ہوتا ہے ۔

برسہا برس تک ماہرین نفسیات،دانشور اور فلاسفر اس نکتے پر غور کرتے رہے ہیں کہ "افراد" جو کچھ کہ ہیں،کس طرح معرض وجود میں آتے ہیں- یہاں افراد سے مراد انکی شخصیت ہے- کیا یہ فطرت ہے جس نے انھیں یہ شخصیت عطا کی ہے،یا یہ تربیت ہے،جس نے انھیں یہ شناخت عطا کی ہے،یعنی کیا انکے حیاتیاتی مرکب میں یہ خواص موجود تھے،یا ماحول نے انھیں رنگ عطا کیا ہے- اسکا جواب ماہرین کے نزدیک تھا کہ دونوں نے مل کر ۔




Copyright © Bahoo.org 2008
14 Fortress Stadium, Lahore Cantt, Pakistan.
Ph: + 92 423 6623108