::*Urdu Books*::
::*Urdu Books*::
    Quick Search
 
Title Author Publisher
            Members Area
Username:
Password:
                                                                  Forget Password
Special Offer  
see all subjects
No Item in cart
General Titles > Akbar Aur Bribal  
Book Detail
 
 
Akbar Aur Bribal
اکبر اور ببریل  
Author/Translator: Ibn Ali 
Price: $ 5.71
Format: Hard Cover, 277Pages, Weight: 480 gm
Product-Id: 1011169
Publisher: Sagar Publications
Publish date: 2006
Productid:1011169  
Quantity:
 

 

پیش لفظ

مغل بادشاہوں میں جس قدر شہرت اور مقبولیت جلال الدین اکبر کو حاصل ہوئی اس قدر کسی اور بادشاہ کو نصیب نہ ہوئی- اس نے نصف صدی بلاشرکت غیرے پورے جاہ و جلال اور شان و شوکت سے ہندوستان پر حکومت کی اور اکبر اعظم کا خطاب پایا- اکبر،مغل شہنشاہیت کے بانی ظہیر الدین بابر کا پوتا اور نصیر الدین محمد ہمایوں کا بیٹا تھا- بچپن میں اپنے چچا کامران کے پاس رہنے کی وجہ سے شفقت پدری سے محروم رہا اور تعلیم سے بہرہ ور نہ ہو سکا جسکا اسے زندگی بھر افسوس رہا ۔

20 سال کی عمر تھی کہ تخت شاہی پر بیٹھا اور اپنی سلطنت کی بھاگ ڈور سنبھالی- تعلیم نہ ہونے کے باوجود غیر معمولی ذہانت و فطانت کا مالک تھا- تجربہ کار اور جہاندیدہ تھا- اس نے دنیا بھر سے قابل جوہر تلاش کیے جو اپنے علم و دانش اور فن ہنر میں یکتاۓ روزگار تھے- انھیں اپنے دربار میں ممتاز مقام دیا اور اپنی علمی محرومی کا مداوا کیا- ان میں نو حضرات،جو اس زمانہ میں نورتن کے نام سے مشہور ہوۓ،نمایاں تھے،ابولفضل،فیضی،شیخ مبارک،ملاعبدالقادر بدایوانی،عبدالرحیم خان خاناں،تان سین،مہاراجہ مان سنگھ،راجہ ٹوڈرمل اور راجہ بیربل ۔

ان نورتنوں میں سب سے زیادہ شہرت اور قربت راجہ بیریل کو نصیب ہوئی- بیربل بلا کا ذہین،دانشور،مدبر اور حاضر دماغ  تھا- اکبر کا نہ صرف وزیر اور مشیر تھا بلکہ اسکا جانی دوست بھی تھا ۔

بیربل کا اصل نام مہیش داس تھا- برہمن خاندان سے تھا- سنسکرت کا بڑا عالم تھا- 1952ء میں اکبر کے دربار میں رسائی حاصل کی- اکبر اسکی ذہانت اور خوش طبعی سے بڑا متاثر ہوا اور اسے معمتد خاص اور بھا‏‏ئی بنا لیا- وہ اپنے درباریوں میں سب سے زیادہ اسی پراعتماد کرتا تھا ۔

 

اللہ تعالی کی رحمت

بیربل ایک مہربان اور مخلص شخص تھا- روزانہ اپنے بھگوان کی پوجا کیا کرتا تھا- یہی وجہ تھی کہ وہ اخلاقی اور جسمانی لحاظ سے بڑا صحت مند تھا- وہ ہمیشہ کہا کرتا تھا ۔

"اللہ تعالی جو کچھ بھی کرتا ہے صرف انسان کے بھلے کے لیے کرتا ہے" ۔ بسا اوقات ہمیں برا ضرور محسوس ہوتا ہے مگر حقیقت میں وہ برا نہیں ہوتا- بسا اوقات اسکی رحمت ہماری شامت اعمال کی وجہ سے رک جاتی ہے- وہ ہمیں تھوڑی تکلیف دیتا ہے تاکہ ہم بڑی تکلیف سے بچ سکیں" ۔

ایک روز ایک درباری اللہ تعالی کی حمد و ثنا اور تعریف میں بیربل کی اس گفتگو کو برداشت نہ کر سکا- بیربل سے کہا ۔

دیکھو! اللہ تعالی نے مجھے کیا دیا ۔ ۔ ۔ ۔؟ پچھلی رات میں اپنے جانوروں کے لیے گھاس کاٹ رہا تھا کہ اچانک میری چھوٹی انگلی کٹ گئی- کیا تمہارے خیال میں اللہ تعالی نے میرے لیے اچھا کیا ہے؟ ۔

بیربل نے جواب دیا ۔

"میرا تو یہی خیال ہے- اسلیے کہ اللہ تعالی جو کچھ بھی کرتا ہے صرف انسان کی بھلائی اور بہتری کے لیے کرتا ہے" ۔




Copyright © Bahoo.org 2008
14 Fortress Stadium, Lahore Cantt, Pakistan.
Ph: + 92 423 6623108