::*Urdu Books*::
::*Urdu Books*::
    Quick Search
 
Title Author Publisher
            Members Area
Username:
Password:
                                                                  Forget Password
Special Offer  
see all subjects
No Item in cart
Business & Technical > Well Living > Tahrakey Ikhlaaqiat  
Book Detail
 
 
Tahrakey Ikhlaaqiat
تاریخ اخلاقیات  
Author/Translator: R.A.P Rojus 
Price: $ 6.00
Format: Hard Cover, 206Pages, Weight: 340 gm
Product-Id: 1011167
Publisher: City Book Point
Publish date: 2003
Productid:1011167  
Quantity:
 

 

تاریخ اخلاقیات

مقدمہ

ذیل کے سوالات سے متعلم کو ان مسائل کی نوعیت کا ایک عام تصور ہو جاۓ گا جن کے حل کرنے کی اخلاقیات کوشش کرتی ہے- کیا مسرت عمل کی انتہائی غایت ہے؟ کیا نیکی لذت کے مقابلے میں قابل ترجیح ہے؟ لذت و مسرت میں کیا فرق ہے؟ اسکے کیا معنی ہیں کہ مجھے فلاں فعل کرنا چایۓ یا فلاں اصول مثلا ایفاۓ وعدہ وغیرہ کا احترام کرنا چایۓ کیا مجھ پر کوئی ایسی ذمہ داری ہے کہ میں دیگر اشخاص کی عافیت کے لیے بھی کوشش کروں اور اپنی عافیت کے واسطے بھی- اگر ایسا ہے تو دونوں عافیتوں کا صحیح تناسب کیا ہونا چایۓ- اختیار کے کیا معنی ہیں؟ احساس و عقل میں سے کردار کا صحیح رہبر کون ہے؟ خیر،ثواب،فریضہ اور ذمہ داری کے عملی اور نظری طور پر کیا معنی ہیں ۔

ان مسائل اور دیگر ایسے مسائل سے جوان سے ربط و تعلق رکھتے ہیں اخلاقیات کا موضوع بحث مرتب ہوتا ہے،جس کی تعریف اس طرح کی جا سکتی ہے کہ اخلاقیات وہ علم ہے جو ان اصول کو دریافت کرتا ہے جن سے کردار انسانی کے اصلی غایات کی حقیقی قدر و قیمت کا تعین ہوتا ہے ان اصول کی اگر تحقیق ہو سکے اور انکو اسطرح سے صحیح طور پر بیان کیا جا سکے کہ ان سے ضوابط کردار مستبط ہوں تو یہی اصول اخلاق معیاری ہونگے- اخلاق ایجابی ایسے قوانین کا مجموعہ ہوتا ہے جس کو ایک عہد کسی ایک قوم کے افعال کی صحیح قدر و قیمت کا تعین کرنے کے لیے صحیح اصول تسلیم کرتا ہے اور اسکا اظہار اسکی پسندیدگی اور ناپسندیدگی کے احکام سے ہوتا ہے- مثلا ہمارے زمانے کا اخلاق ایجابی محنت عفت،دیانت اور انسانی زندگی کے لحاظ کو پسند کرتا ہے اور انکی ضدوں کو ناپسند کرتا ہے ۔

 

سوفسطائیہ- سقراط اور سقراطی مذہب

سوفسطائیہ

              مسیئح سے پانچ سو سال قبل یونان میں فلسفے اور خطابت کے معلموں کی ایک پیشہ ور جماعت گزری ہے جو سو فسطائیہ کے نام سے مشہور ہے- یہ لوگ اخلاقیات کے مقدمہ الحجیش کہے جا سکتے ہیں- کیونکہ انکے متقدمین کردار انسانی کے بجاۓ ایسے غیر شخصی مسائل کی طرف توجہ کرتے تھے جن کا تعلق کائنات مادی کی ساخت سے ہے- پروٹا گورس سو فسطائی تعلیم کے ایجابی و تعمیری پہلو کی نمائندگی کرتا ہے اورگار جیاس سلبی و تنقیدی پہلو کی- پروٹا گورس ہی سے یہ مشہور قول منسوب کیا جاتا ہے کہ تمام اشیاء کا معیار انسان ہے- اس مقولہ کو جب کردار پر منبطق کیا جاتا ہے تو بالعموم اس کے یہ معنی لۓ جاتے ہیں کہ خیر کلیتہ ذہنی ہوتی ہے- یہ ہر شخص کے لیے اسکے اختیار سے ہوتی ہے جو اسکو خیر معلوم ہوتا ہے وہی خیر ہے اس روشنی میں اگر دیکھا جاۓ تو پروٹا گورس کا اصول ایک رخہ نظر آتا ہے کیونکہ یہ اخلاق کے خارجی عنصر کو نظر انداز کر دیتا ہے اگر خیر کا وجود صرف اس فرد کے لیے ہوتا ہے جس کو کہ اسکا تجربہ ہوتا ہے تو کوئی خارجی اجتماعی خیر ہو ہی نہیں سکتی- لیکن یہ اصول ایک نہایت اہم حقیقت ظاہر کرتا ہے یعنی فلسفہ عملی میں جس خیر کی جستجو کی جاتی ہے وہ شخصی ہوتی ہے- اسکا تجربہ ایک یا ایک سے زائد انسانوں کو ہونا چایۓ کیونکہ بصورت دیگر اسکے کوئی معنی نہ ہونگے- لیکن اس اصول کو ایغوئیت مخص نہ کہنا چاہیۓ کیونکہ یہ اسکے منافی نہیں کہ اجتماعی خیر انفرادی خیر سے افضل و برتر ہوتی ہے- جس تجربہ میں خیر کا تحقیق ہوتا ہے- وہ ممکن ہے کہ ایک فرد واحد کا محدود تجربہ نہ ہو بلکہ ایک جماعت کا مجموعی تجربہ ہو- یعنی خیر معروضی ہونے کے باوجود بھی شخصی ہو سکتی ہے ۔




Copyright © Bahoo.org 2008
14 Fortress Stadium, Lahore Cantt, Pakistan.
Ph: + 92 423 6623108