::*Urdu Books*::
::*Urdu Books*::
    Quick Search
 
Title Author Publisher
            Members Area
Username:
Password:
                                                                  Forget Password
Special Offer  
see all subjects
No Item in cart
Art & Literature > Ghalib Kay Zemanay Ki Dilhi  
Book Detail
 
 
Ghalib Kay Zemanay Ki Dilhi
غالب کے زمانے کی دلی  
Author/Translator: Dr. Abbas Bermani 
Price: $ 13.31
Format: Hard Cover, 224Pages, Weight: 530 gm
Product-Id: 1011142
Publisher: Sang e meel Publications
Publish date: 2006
Productid:1011142  
Quantity:
 

 

مولانا الطاف حسین حالی کالی داس گپتا اور مرزا سنگین بیگ سے انتظار حسین تک سینکڑوں مصنفین نے غالب اور دہلی پر کتب تالیف کیں- دونوں ہی بہت بڑے موضوع ہیں- غالب ایک فرد نہیں ایک ادارہ تھے اور دلی محض ایک شہر نہیں ایک تہذیب تھی- اندر پرستھ سے لے کر نئی دہلی تک تاریخ کا ایک بیکراں سمندر ہے- میں نے اس سمندر کی غواصی کرکے عہد غالب کی دلی کھوجنے کی کوشش کی ہے- دلی کو غالب کی نظروں سے دیکھا ہے- غالب 1813ء میں دلی کے ہوۓ- اس سے تین برس قبل وہ دلی کے داماد بنے تھے اور 1869ء میں وہ دلی کی خاک اوڑھ کر ابدی نیند سو گۓ ۔

میں نے اپنی کھوج 1803ء سے شروع کی ایک طویل بدامنی اور انارکی کے بعد دلی میں امن کے دور کا آغاز ہو رہا تھا- ادارے وجود میں آ رہے تھے- عدلیہ،انتظامیہ،پولیس جو فعال لمایرید نہیں تھے،جنھیں جوابدہی کا سامنا کرنا پڑتا تھا،فرد واحد کا فیصلہ حرف آخر نہیں تھا- ایک عدالت کے اوپر اس سے بڑی عدالت تھی- لوگوں کو اپیل کا حق مل رہا تھا- اگرچہ یہ ادارے مثالی نہیں تھے ان پر شاہی اثرات بھی تھے اور نوآبادیاتی بھی،لیکن ادارے بہر حال وجود میں آ رہے تھے اور پھر صحافت کا آغاز ہو رہا تھا- اخبارات،ایک خاص دائرے کے اندر سہی،کافی کھل کر عوامی مسائل کا اظہار کر رہے تھے- عوام کو پہلی بار احساس ہو رہا تھا کہ حقائق جاننا بھی انکے حقوق میں شامل ہے اور یہ بھی کہ وہ کچھ بنیادی حقوق بھی رکھتے ہیں- محض فرائض ادا کرنے والے غلام نہیں- راۓ عامہ وجود میں آ رہی تھی- قلعہ معلی علم و دانش اور ادب و ثقافت کا مرکز بن گیا تھا- اکبر اعظم کے دور میں دربار کا جو سیکولر مزاج بنا تھا،وہ لوٹ آیا تھا- ہندوستانی اور یورپی کلچرز کے امتزاج سے ایک نیا کلچر وجود میں آ رہا تھا- ہندوستانی کلچر اس قدر طاقتور تھا کہ اہل یورپ بھی اسے اپنانے پر مجبور ہو چکے تھے- زبان و ادب ایک جدید رنگ اختیار کر رہے تھے جو زیادہ شوخ،زیادہ گہرا اور تادیر باقی رہنے والا تھا ۔

 

عباس برمانی کا ذوق تحقیق اور رنگ تخلیق

عباس برمانی کو میں سفرنامہ نگار کے طور پر جانتا تھا اور خیال کرتا تھا کہ وہ مستنصر حسین تارڑ سے متاثر ہے،زیادہ سے زیادہ اور زیادہ برانداز ہو جاۓ گا اور آخر آخر رشتے کرانے بیٹھ جاۓ گا،مگر اس نے توہر ملاقات میں مجھے حیرت زدہ کرنا شروع کیا،اپنے ذوق مطالعہ سے اور اب وہ تہذیبی بازیافت کا ایک اور باب لایا ہے "غالب کے زمانے کی دلی" ۔ ۔ ۔ ۔ دلی سے اسکا کیا رشتہ ہے؟ چوٹی زیریں میں بیٹھے عباس برمانی نے ایک مخصوص عہد کی دلی کو اور غالب کے زمانے کو تاریخی و تہذیبی شہادتوں،جمالیاتی وجدان اور تحقیقی تخیل سے کیوں دریافت کرنا چاہا ہے؟ کیا یہ اپنے اجتماعی وجود سے منہا ہونے والے حوالے کی بازیابی کی رومانوی کوشش ہے؟ پاکستان کے جہادی مکتب فکر کی جانب سے لال قلعے پر سبز ہلالی پرچم لہرانے کے خواب یا کلیم کی تجدید ہے؟ یا پھر مغل کلچر کی تلچھٹ،سامراجی ورثے،مشرق شناہی اور عالمگیریت کے کثیر الابعاد منظرنامے کو سمجھنے کی ایک سنجیدہ کوشش،جس کے ماخذات حیرت انگیز ہیں اور جس سہولت سے وہ نتائج اخذ کرتا ہے،جس اسلوب میں بیان کرتا ہے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ چوٹی زیریں والوں کے اس نقطہ نظر کو بھی جس معصومیت سے وہ بیان کرتا ہے،وہ سب مجھے موقف سے اختلاف کے باوجود متاثر کرتا ہے ۔

"بہتری کا راستہ ارتقاء اور اصلاح کا ہے،انقلاب کا راستہ تباہی و بربادی کا ہے،کسی نظام کو تباہ کرنے کی بجاۓ اسے اپنا فطری راستہ اختیار کرنے کا موقع دیا جانا چاہیے،اگر وہ ناقص ہے تو خود بخود مٹ جاۓ گا- اداروں کو مضبوط کرکے ہی ریاست کو اور معاشرے کو امن اور خوشحالی کے راستے پر ڈالا جا سکتا ہے" ۔




Copyright © Bahoo.org 2008
14 Fortress Stadium, Lahore Cantt, Pakistan.
Ph: + 92 423 6623108