::*Urdu Books*::
::*Urdu Books*::
    Quick Search
 
Title Author Publisher
            Members Area
Username:
Password:
                                                                  Forget Password
Special Offer  
see all subjects
No Item in cart
Social & Political > Izwaji Masial Alajey Nabvi Aur Jadid Science  
Book Detail
 
 
Izwaji Masial Alajey Nabvi Aur Jadid Science
ازدواجی مسائل علاج نبوی صلی اللہ علیہ وسلم اور جدید سائنس  
Author/Translator: Muhammad Tariq Mehmood Chugtai 
Price: $ 4.8
Format: Hard Cover, 248Pages, Weight: 415 gm
Product-Id: 1011113
Publisher: Ilm O Irfan Publishers
Publish date: 2004
Productid:1011113  
Quantity:
 

 

حال دل

جنس زندگی کا ساتھ یا جوانی کا ساتھی یہ ایک ایسا سوال ہے جس کو سمجھنے کے لیے نہایت ہی محنت اور کوشش کی ضرورت ہے لیکن میرے خیال میں یہ کوشش اگر نہ بھی کریں تو زندگیوں کے مطالعے کے بعد یہ بات عیاں ہے اگر ان جنسی جذبات کو احتیاط اور محتاط انداز میں استعمال کیا جاۓ تو یہ عبادت بھی ہے اور صحت بھی ۔

عورت جو پردے کا نمونہ اور حیا کی علامت ہے یہ روپ جب بھی بدلا ہے تو حیا کا ایک نیا پیکر بن گیا ہے ماں بن کر مقدس بہن بن کر مکرم بیوی بن کر معطر اور بیٹی بن کر محترم ۔

یقین جانیے ہم جب بھی اپنے لبوں پر لفظ عورت لاتے ہیں تو اسکے اندر اس سے نباہ اور معاملے کی حقیقت ضرور نظر آتی ہے ۔

شادی انسان کی ضرورت ہے اور رشتہ ازدواج سے منسلک ہونا جسم اور روح کی بالیدگی کے لیے نہایت لازم ہے ۔

آخر ہماری گھریلو اور ازدواجی زندگی تلخ کیوں ہوتی ہے پھر یہی تلخی ناچاقی،مایوسی،غم و غصہ اور بیماریوں کی شکل میں ظاہر ہوتی ہے ۔

زیرنظر کتاب میں ازدواجی زندگی گزارنے کے سنہرے اصول اور ساتھ ہی خواتین کی بیماریاں اور انکا جدید و قدیم علاج تحریر کیا ہے کیونکہ میرے پاس علاج کے لیے خواتین کے بے شمار کیس آتے ہیں تو علاج کا سلسلہ انکی آسانی کے لیے تحریر کیا ہے ۔

قارئین میرا مقصد ایک محتاط اور دینی زندگی کی طرف راہنمائی ہے اگر کوئی اس راہنمائی کو حاصل کرے گا تو اس میں اسکی خیر اور عافیت ہے اور اگر کوئی غلیظ زندگی گزارنا چاہتا ہے اور اس نے فیصلہ کر لیا ہے تو پھر اسکو اللہ تعالی ہی ہدایت دے ۔

 

جنسی صحت پر ذہنی رویے کے اثرات

شادی سے نہ گھبرائیے ۔

جنس ہماری زندگی کا ایک اہم حصہ ہے جسے مافوق الفطر یا اجنبی شے نہیں سمجھنا چاہیے ۔

اس بات کو سمجھنے کی اچھی طرح ضرورت ہے کہ جنسی تقاضے بھی ہمارے جسم کے دیگر تقاضوں کی طرح ہماری زندگی اور ہماری بقا کے لیے ضروری ہیں- ان پر گفتگو کرنا یا جنسی مسائل کے بارے میں کسی سے مشورہ کرنا غیر اخلاقی بات نہیں- مذہبا بھی اس میں کوئی عار نہیں ہے- یہی وجہ ہے کہ اسلامی لڑیچر میں بڑی تفصیل کے ساتھ جنسی مسائل پر گفتگو کی گئی ہے- اسی لیے جنسی معاملات میں مثبت رویے کی ضرورت ہے لیکن اسکے برخلاف ہمارا معاملہ یہ ہے کہ جنسی معاملات پر گفتگو کو غیر سنجیدہ پن اور بداخلاقی تصور کیا جاتا ہے- جب جنسی تقاضوں کو پورا کرنے کو دور نہیں ہوتا تو نوجوان اسکی طرف کھنچے چلے جاتے ہیں اور جب جنسی تقاضے پورا کرنے کا وقت ہوتا ہے یعنی انکی شادی ہونے والی ہوتی ہے تو وہ اس سے گھبراتے ہیں- اگر آپ واقعی اپنے آپ سے محبت کرتے ہیں تو اپنے جنسی تقاضے شادی سے پہلے پورے نہ کیجۓ بلکہ شادی کے بعد پورے کيجۓ ۔

اگر آپ عمومی طور پر صحت مند ہیں تو شادی سے خوف زدہ ہونے کی کوئی ضرورت نہیں ہے ۔

دوستوں کو مثال نہ بنایۓ

جب شادی کا وقت آتا ہے تو نوجوان اکژ اپنے دوستوں سے اپنے معاملات کا ذکر کرتے ہیں بالخصوص شادی شدہ دوستوں سے مشورے مانگتے ہیں- یہ دوست اپنے تجربات کو سامنے رکھ کر اپنی جواں مروی بلکہ مہم جوئی کے قصے خوب مرچ مسالا لگا کر سناتے ہیں- یہ تجربات سن کر اپنی جنسی صحت سے سہمے ہوۓ نوجوان مزید خوف زدہ ہو جاتے ہیں ۔




Copyright © Bahoo.org 2008
14 Fortress Stadium, Lahore Cantt, Pakistan.
Ph: + 92 423 6623108