::*Urdu Books*::
::*Urdu Books*::
    Quick Search
 
Title Author Publisher
            Members Area
Username:
Password:
                                                                  Forget Password
Special Offer  
see all subjects
No Item in cart
Art & Literature > Fiction > Wahdaat Mili  
Book Detail
 
 
Wahdaat Mili
وحدت ملی  
Author/Translator: Khursheed Ahmed Gillani 
Price: $ 3.99
Format: Hard Cover, 149Pages, Weight: 325 gm
Product-Id: 1011102
Publisher: Maktaba Tameer e Insaniyat
Publish date: 2005
Productid:1011102  
Quantity:
 

 

قبائلی عہد اور جائلی رسموں میں گندھے ہوۓ معاشرے میں پہلی بار ایک ایک ایسا تصور ابھرا جو کسی قبیلے،کسی نسل،کسی زبان،کسی علاقے اور کسی رنگ کا ترجمان نہیں بلکہ پوری انسانیت پر مبنی تھا وہ تھا `تصور امہ` اور اس تصور کو امام انسانیت صلی اللہ علیہ و سلم نے ابھارا،نکھارا اور سنوارا،جس کے باعث اہل اسلام کو عالمی سطح پر اپنا کردار ابھارنے،اپنا تہذیبی رنگ روپ نکھارنے اور اپنا مقدر سنوارنے کا موقع نصیب ہوا ۔

بے شمار قبائل و شعوب ملت کے قالب میں ڈھلنے لگے،انسان کو پہلی بار `بنی آدم` ہونے کا پر فخر احساس ہوا،ورنہ اس سے پہلے کسی کا رنگ اور علاقہ دیکھ کر اسکا تشخص متعین ہوتا تھا،وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ جونہی وحدت ملی کا رنگ بکھرا،انسانیت کا شیرازہ بکھرنے لگا اور تہذیبی توازن بگڑنے لگا،پھر وہی من و تو کے جھگڑے،وہی احمر و اسود کے شاخسانے،وہی قرشی و حبشی کے شوشے وہی عربی و عجمی کے بکھیڑے اور وہی یورپی و ایشیائی کے فتنے پیدا ہو گۓ،دونوں عظیم جنگوں نے اسی `قومیت` کے فتنے سے جنم لیا،اہل اسلام بھی اس رو میں بہنے لگے کہیں قومیتیں الجھ پڑیں،کہیں سرحدیں خونی لکیر بن گئیں،کہیں مذہبی فرقے شعلہ بداماں اور کہیں سیاسی گروہ کف درہاں نظر آنے لگے،امت گروہوں میں بٹ کر اپنا مقدر عالمی سامراج کے ہاتھ گروی رکھ بیٹھی ہے،کچھ عرصے سے اسلامی احیانی تحریکوں نے پھر سے اہل اسلام میں امہ کے تصور کو اجاگر کرنا شروع کیا ہے،اس لیے کہ عالمی سا مراج نے جب بھی مسلمانوں کو سزا دی ہے،بطور سنی اور شیعہ،مقلد اور غیر مقلد نہیں اور نہ سوڈانی،ترکی اور ایرانی سمجھ کر بلکہ امت کو اپنا ہدف بنایا ہے ۔

 

قرآن حکیم نے مسلمانوں کو `امت و سطی` کا لقب عطا فرمایا یعنی `انڑنیشنل امہ` جس کا مطلب یہ ہے کہ ایسی امت جو ہر رنگ،نسل،وطن اور قوم سے برابر کے فاصلے پر کھڑی ہے اور ہر ایک سے حریفانہ نہیں عادلانہ رویہ رکھتی ہے،اسکا سفر ذات سے شروع ہو کر کائنات اور فرد سے بین الاقوامیت تک جاری رہتا ہے خواہ وقت ساز گاری کرے یا نہ اور رفتار زمانہ ساتھ دے یا نہ اسکا ہدف تبدیل نہیں ہو گا یہ حلیف تو سب کی ہے حریف کسی کی نہیں کیوں کہ اسکا خمیر دعوت سے اٹھایا گیا ہے دعوت کے دامن میں تعصب کا ٹانکا لگ ہی نہیں سکتا دعوت سربسر نصحیت،خیرخواہی،امن،محبت،اخوت اور قربت ہے اگر یہ چیزیں نہ ہوتیں تو ہم کبھی امت نہ بنتے اور نہ امت کے دائرے میں مختلف براعظم متضاد نسلیں،مخالف زبانیں اور اوپری رنگتیں سما سکتیں ۔

ہماری بدقسمتی کا یہ عالم ہے کہ دنیا کی دوسری اقوام اپنے اوپر بین الاقوامیت کا لیبل چڑھا رہی ہیں اور ہم (مسلمان) زینہ بہ زینہ نیچے اترتے ہوۓ لسانی،صوبائی،قومینی،علاقائی اور مسلکی دائروں میں سمیٹتےجا رہے ہیں،قرون اول میں فارس کے سلمان رضی اللہ عنہا،حبش کے بلال رضی اللہ عنہا،روم کے صہیب رضی اللہ عنہا،قرون کے اویس رضی اللہ عنہا،بسطام کے بایزید رضی اللہ عنہا،بغداد کے جنید رضی اللہ عنہا،ہجویر کے سید علی رضی اللہ عنہا،اجمیر کے خواجہ معین الدین اس امت کے دامن میں جذب ہوتے چلے گۓ نہ براعظم کا اختلاف آڑے آیا نہ علاقے کا فرق محسوس ہوا نہ رنگ رکاوٹ بنے اور نہ نسلیں دیوار ٹھہریں،لیکن اب نوبت ہانیجا رسید کہ ہم اپنے ہی بھائی بندوں کو وارننگ دیتے نظر آتے ہیں کہ تم ہمارا بننے کی کوشش کرو تم ہمارے نہیں ہو اور ہم تمہیں اپنا نہیں مانتے کیوں ؟ ۔




Copyright © Bahoo.org 2008
14 Fortress Stadium, Lahore Cantt, Pakistan.
Ph: + 92 423 6623108