::*Urdu Books*::
::*Urdu Books*::
    Quick Search
 
Title Author Publisher
            Members Area
Username:
Password:
                                                                  Forget Password
Special Offer  
see all subjects
No Item in cart
Art & Literature > Kabhar Qabela  
Book Detail
 
 
Kabhar Qabela
خبر قبیلہ  
Author/Translator: Nadeem Uppal 
Price: $ 13.57
Format: Hard Cover, 298Pages, Weight: 730 gm
Product-Id: 1011078
Publisher: Maktaba Tameer e Insaniyat
Publish date: 2006
Productid:1011078  
Quantity:
 

 

ایک زمانہ تھا جب صحافت اور صحافی کا کردار ایک غیر جانبدار محتسب جیسا تھا جسکا کام حکومتوں کے غلط کاموں اور خامیوں کی نشاندہی کرکے انکے اچھے برے اعمال کی صحیح تصویر پیش کرنا تھا،اس دور کے اخبارات اپنی خبروں،اداریوں اور تحریروں کے حوالے سے حکومتی امور اور پالسیوں پر براہ راست اثرانداز ہوا کرتے تھے تب مخص خالی تنقید یا نکتہ چینی نہیں کی جاتی تھی بلکہ امور مملکت میں حکومت کی صحیح سمت میں راہنمائی بھی کی جاتی تھی ۔

مولانا ظفر علی خان،مولانا اختر علی خان،انکے بعد نواۓ وقت کے بانی حمید نظامی،آغا شورش کاشمیری،ظہور عالم شہید اور اس دور کے دیگر عظیم صحافیوں نے پابند سلاسل رہنا تو قبول کر لیا مگر حکومتوں کے کسی غلط کام یا اقدام میں انکے شریک کار نہیں بنے اور اسکی بہت سی مثالیں پیش کی جا سکتی ہیں ۔

مثلا ایک انگریز گورنر نے جب اخبار زمیندار میں مولانا ظفر علی خان کا مضمون شائع ہونے پر اسے بند کیا اور پھر زمیندار کے قارئین نے اس زمانے میں دس ہزار روپے جرمانے کی خطیر رقم جس طرح سے چندہ کی صورت میں اکٹھی کرکے اخبار زمیندار کی بندش کو ختم کروایا اس سے ایک عظیم صحافی کی جرات مندی اور عوام میں اسکی مقبولیت کا بخوبی اندازہ کیا جا سکتا ہے ۔

 

 ندیم اپل نے سنیر صحافیوں اور کالم نویسوں کے ساتھ مکالمہ کرنے کی روایت کو اچھے انداز میں آگے بھی بڑھایا ہے صحافت بہت سنجیدہ پیشہ ہے- یہ وصف انبیاۓ کرام سے ہمیں ورثہ میں ملا ہے عربی میں نبی کے لغوی معنی خبر دینے والے کے ہیں اسی طرح رسول کا مطلب رسالہ یعنی اطلاع پہنچانے والا ہے انبیاۓ کرام پر اترنے والی الہامی کتابوں کو صحیفے کہا جاتا ہے صحافت کا لفظ بھی اسی سے اخذ کیا گیا ہے کہ یوں صحافت کے شعبہ سے تعلق رکھنے والے انبیاء کرام کی عظیم روایات کے امین ہیں یہ بہت بڑا قابل فخر اعزاز ہے اسے اسی زاویے سے دیکھا جانا چاہیے اس سلسلے میں ایک اور بات اہم ہے کہ سرور کائنات صلی اللہ علیہ و سلم نے نبوت کا اعلان کرنے سے پہلے لوگوں سے اپنے بارے راۓ پوچھی تھی اور لوگوں نے کہا تھا کہ ہم تمہیں صادق اور امین سمجھتے ہیں جس نے کبھی جھوٹ نہیں بولا اور ہمیشہ دیانت داری کا مظاہرہ کیا ہے اس تصدیق کے بعد ہی آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم نے نبی ہونے کا اعلان کیا تھا یہ مثال صحافت کا بنیادی اصول طے کر دیتی ہے کہ ہر صحافی کے لیے سچ بولنا سچ لکھنا اور دیانت داری کی اقدار پر قائم رہنا ضروری ہے مجھے صحافت کے شعبہ سے وابستہ ہوۓ 40 برس سے زیادہ کا عرصہ ہو چکا ہے اس دوران ملکی سیاست کے علاوہ صحافت کے شعبے میں بہت اتار چڑھاؤ دیکھے ہیں مجھے افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ بحیثیت مجموعی ہماری صحافت کا معیار اصولوں صداقت کی پاسداری کا قابل ستائش مظاہرہ نہیں کر سکی قیام پاکستان سے پہلے ہماری صحافت دو حصوں میں بٹی ہوئی ہے اپنے مسلک کے حق میں اور مخالف فریق کے خلاف یک طرفہ پراپیگنڈے کی صحافت تھی جس کی اس وقت ضرورت بھی تھی ۔




Copyright © Bahoo.org 2008
14 Fortress Stadium, Lahore Cantt, Pakistan.
Ph: + 92 423 6623108