::*Urdu Books*::
::*Urdu Books*::
    Quick Search
 
Title Author Publisher
            Members Area
Username:
Password:
                                                                  Forget Password
Special Offer  
see all subjects
No Item in cart
Children > Fun Stuff > Karway Kasilay Mazamean  
Book Detail
 
 
Karway Kasilay Mazamean
کڑوے کسیلے مضامین  
Author/Translator: Aurangzeb Niazi 
Price: $ 7.14
Format: Hard Cover, 338Pages, Weight: 500 gm
Product-Id: 1011077
Publisher: Maktaba Tameer e Insaniyat
Publish date: 2006
Productid:1011077  
Quantity:
 

 

تاریخ صرف ماضی کے حقائق اور معلومات و کوائف یکجا کرنے کے نام نہیں بلکہ ان حقائق کو حال کی روشنی میں دیکھنے یا ان حقائق کی روشنی میں حال کے مسائل کو سمجھنے کا نام بھی ہے- سیاسی و مذہبی تاریخ کی نسبت ادبی تاریخ لکھنا یقینا دشوار کام ہے- سیاسی و مذہبی تاریخ لکھتے وقت مسائل حالات،کوائف،واقعات اور سنین کو مرتب کیا جاتا ہے جبکہ ادبی مورخ کو ان سب لوازمات کے علاوہ ذہنی رحجانات،تخلیقی میلانات اور فنی روایات کو بھی سامنے رکھنا ہوتا ہے- ادبی تاریخ کی تعریف ڈاکٹر سلیم اختر ان الفاظ میں کرتے ہیں ۔

`کسی زبان کی جغرافائی حدود سے مخصوص لسانی،روحانی،تہذیبی،تمدنی،سماجی،سیاسی،اقتصادی عوامل و محرکات کے عمل اور ردعمل سے تشکیل پانے والے ذہنی تناظر میں وقوع پذیر ہونے والی تخلیقات کی معیار بندی،لسانی مضمرات اور تخلیقی شخصیات کا مطالعہ،تاریخ نگاری اور ان ہی کا مطالعہ،تجزیہ و تحلیل اور تشریح ادبی مورخ کا بنیادی فریضہ!` ۔

 

تاریخ ادبیات ہندوی و ہندوستانی

گارساں دتاسی کے سفر حیات کا آغاز و انجام علی الترتیب 1794ء اور 1878ء میں ہوا- اس نے مشرق کی سیر کے بغیر یورپی اساتذہ سے جن میں خاص طور پر دساسی و جون شیکسپیر کا نام لیا جاتا ہے،یہاں کی متعدد زبانیں سیکھیں،اور مدت دراز تک پیرس میں اردو کا استاد رہا- اسکی ادبی زندگی کی عمر 50 سال سے زیادہ تھی اور وہ اردو کا بڑا حامی تھا- ڈاکٹر زور نے اسکے حالات اور علمی کارناموں پر ایک رسالہ لکھا ہے اور گریرسن کی لنگوسٹک سروے آف انڈیا کی جلد نہم میں اسکی ان تصانیف و تراجم وغیرہ کی فہرست ہے جن کا تعلق ہندوستان سے ہے- اسکی بعض کتابوں کا اردو میں ترجمہ ہو چکا ہے ۔

دتاسی کی تاریخ ادبیات ہندوی و ہندوستانی کی اشاعت اول،روئل ایشیاٹک سوسائٹی کی مجلس تراجم کی طرف سے شائع اور ملکہ وکٹوریا کے نام سے معنون ہوئی- جلدا(حالات و کتابیات)1839ء اور جلد2(قطع نظر از مقدمہ اردو ہندی نظم و نثر کے تراجم یا خلاصے)1846ء میں چھپی طبقات شعراۓ ہند مصنفہ کریم الدین جلدا کے مطالب کو سامنے رکھ کر لکھا گیا ہے مگر اسکا ترجمہ نہیں- طبقات پر میرا مفصل تبصرہ معاصر میں شامل ہے،جس سے اسکی حقیقت معلوم ہو سکتی ہے- اشپرنگر نے بھی اشاعت سے کام لیا ہے- دتاسی کا ارادہ اسی زمانے میں تیسری جلد شائع کرنے کا بھی تھا مگر یہ قوت سے نعل میں نہ آ سکا ۔




Copyright © Bahoo.org 2008
14 Fortress Stadium, Lahore Cantt, Pakistan.
Ph: + 92 423 6623108