::*Urdu Books*::
::*Urdu Books*::
    Quick Search
 
Title Author Publisher
            Members Area
Username:
Password:
                                                                  Forget Password
Special Offer  
see all subjects
No Item in cart
Business & Technical > Islam Main Garbi Kaa Aleag  
Book Detail
 
 
Islam Main Garbi Kaa Aleag
اسلام میں غریبی کا علاج  
Author/Translator: Naseer Ahmed Milli 
Price: $ 5.6
Format: Hard Cover, 240Pages, Weight: 400 gm
Product-Id: 1011072
Publisher: Maktaba Tameer e Insaniyat
Publish date: 2004
Productid:1011072  
Quantity:
 

 

یہ چھوٹی سی کتاب جو آپ کے ہاتھوں میں ہے،اسلامی معاشیات کی کوئی کتاب نہیں،اسلیے کہ یہ مستقل ایک موضوع ہے جس کے لیے علیحدہ تصنیف درکار ہے جس میں انسانی سرگرمی کے لیے دولت کی پیدوار اور اسکی صحیح تقسیم و خرچ سے متعلق اسلامی نظریے اور اصول پیش کۓ جاتے ہیں،جن سے اسلام نے دنیا کے تمام سیاسی و معاشی فلسفوں کے مقابلے میں سب سے زیادہ منصفانہ اور حکیمانہ طور پر انسانی آزادی،عام خوشحالی اور امن و مساوات کی ضمانت دی اور دین و دنیا کے درمیان حقیقی توازن برقرار رکھا ۔

اسلام کا یہ اقتصادی نظام کس قدر وسعت کا حامل ہے؟ اسکا کچھ اندازہ راقم کو اس وقت ہوا،جب وہ گذشتہ کئی برسوں سے `فقہ الزکوتہ` کے موضوع پر تحقیقی کام میں مصروف تھا- خدا کا شکر ہے اسی نام سے یہ مقالہ مکمل (ہو کر اشاعت پذیر) ہوا،لیکن اسلام کے معاشی نظام پر تفصیل سے کچھ لکھنے کا اب تک موقع نہ ملا،دعا ہے کہ باری تعالی غیب سے اسکے لیے مواقع فراہم کرے ۔

ہاں! اس مختصر سی کتاب میں اسلامی اقتصادیات کے اس مخصوص حصے سے بحث کی گئی ہے جسکا تعلق غریبی اور اسکے علاج سے ہے،جس میں غریبی کے حقوق اور خاص طور پر ان وسائل پر روشنی ڈالی گئی ہے جن کے سہارے سماج کا یہ پسماندہ طبقہ چین کا سانس لے سکے اور اسلامی دستور کے زیر سایہ اپنی خودی اور عزت نفس کی حفاظت کر سکے،انسان آج سے نہیں تاریخ کے نامعلوم زمانے سے غربت اور غریبی سے واقف ہے ۔

 

سخن اول

اسلام کی ایمانی،اخلاقی اور روحانی تہذیب کا مادی تحریکوں کے ساتھ ایک مستقل ٹکراؤ اور تصادم رہا ہے- گزشتہ تین صدیوں میں صنعتی انقلاب کے مادی نتائج کے گوشوارے نے انسانوں کو حیوانی سطح کی قعر مذلت میں گرا رکھا ہے- صنعتی انقلاب سے بیک وقت دو نوعیت کے ردعمل پیدا ہوۓ- ایک آزادانہ سرمایہ دارانہ معیشت کا پہلو ہے،تو دوسرا تمام ملکی اور قومی وسائل کو ایک مخصوص اور محدود مرکزی قوت کے ہاتھوں میں سونپ دینے کا تصور ہے،جسے معاشی اصلاح میں اشتراکت یا کیمونزم کا نظریہ قرار دیا جاتا ہے- یہ دونوں معاشی تصورات انتہا پسندانہ اور افراط و تفریط کا شکار ہیں- انکے خونیں پنجے میں انسانیت ابھی تک سسک رہی ہے- ان سیکولر قوتوں نے چھوٹے اور غریب ملکوں کا استحصال کرکے انھیں ایک مستقل غریب اور پسماندگی کا شکار کر دیا ہے- ان دونوں معاشی نظاموں کی افراط و تفریط کے مقابلے میں اسلام کا عادلانہ معاشی نظام عدا اجتماعی کے تمام تقاضوں کو پورا کرنے کا ایک مستند تاریخی ریکارڈ رکھتا ہے- تمام معاشی نظاموں کا حقیقی ہدف انسانیت کو غربت سے نجات دلا کر ایک خوشحال زندگی کے وسائل و ذرائع فراہم کرنا ہے مگر مادی سطح کے معاشی نظاموں میں کوئی بھی آج تک اس ہدف کے حتمی اور یقینی نتائج و ثمرات حاصل نہیں کر سکا- مغرب کے ان نظاموں میں فلاحی مملکت یا معاشرے کا تصور بھی حقیقی فلاح سے بہت بعید اور مواخات کی روح سے خالی دکھائی دیتا ہے ۔

اسلام کے معاشی نظام میں استحصال کی ہر شکل کو ممنوع اور مکروہ قرار دیا گیا ہے- سودی معیشت ایک محدود سرمایہ دارانہ اقلیت کو جس معاشی قوت سے بدل دیتی ہے اور وہ اس مادی قوت کے حصول کے بعد مزدوروں اور غریب طبقات سے کیا سلوک روا رکھتا ہے،اس سے آجرواجیر کے ظلم اور مظلومیت کی مغربی تصویر سب کے سامنے موجود ہے ۔




Copyright © Bahoo.org 2008
14 Fortress Stadium, Lahore Cantt, Pakistan.
Ph: + 92 423 6623108