::*Urdu Books*::
::*Urdu Books*::
    Quick Search
 
Title Author Publisher
            Members Area
Username:
Password:
                                                                  Forget Password
Special Offer  
see all subjects
No Item in cart
General Titles > Aurat Aur Mard Mari Zindgi Main  
Book Detail
 
 
Aurat Aur Mard Mari Zindgi Main
عورت اور مرد میری زندگی میں  
Author/Translator: Khuswant Singh 
Price: $ 6.4
Format: Hard Cover, 219Pages, Weight: 360 gm
Product-Id: 1011026
Publisher: Mushtaq Book Corner
Publish date: 2006
Productid:1011026  
Quantity:
 

 

اپنی طبعی زندگی کے دوران ہر ایک انسان کو ہزاروں مردوں اور عورتوں سے واسطہ پڑتا ہے باالفاظ دیگر اسکی زندگی میں ہزاروں مرد اور عورتیں آتی ہیں- کچھ رشتے ناطے پائیدار ہوتے ہیں اور زندگی بھر برقرار رہتے ہیں کچھ رشتے ناطے ناپائیدار ہوتے ہیں اور جلد ہی اپنے اختتام کو پہنچ جاتے ہیں- کچھ رشتے ناطے حوادث زمانہ کا شکار ہو جاتے ہیں ۔

ایک شخص جس خاندان میں جنم لیتا ہے اس خاندان کے اراکین کےساتھ اسکے رشتے ناطے پائیدار خطوط پر استوار ہوتے ہیں- ان رشتوں میں اسکے دادا،دادی،نانا،نانی،والدین،چچا،تاۓ،خالائیں،بھائی،بہن،بہن بھائیوں کے بچے اور دیگر کئی ایک اقسام کے رشتےدار شامل ہوتے ہیں اس قسم کے ناطے درجہ اول میں درجہ بند کۓ جا سکتے ہیں ۔

درجہ دوم میں درجہ بند کۓ جانے والے رشتے ناطوں میں وہ لوگ شامل ہوتے ہیں جو کسی شخص کی اسکول اور کالج کی تعلیم کے دوران اس سے باہم روابط ہوتے ہیں ۔ ۔ ۔ ۔ اسکے قریب آتے ہیں ۔ ۔ ۔ اسکی زندگی میں شامل ہوتے ہیں یا پھر مالبعد جب وہ کسی پیشے سے منسلک ہوتا ہے تو اس پیشے سے منسلک دیگر افراد سے باہم رابط ہوتا ہے اور وہ افراد بھی اسکی زندگی میں شامل ہو جاتے ہیں ۔ ۔ ۔ اسکے قریب آ جاتے ہیں- ان اقسام کے رشتے ناطے اور تعلقات عام طور پر مضبوط ثابت ہوتے ہیں کیونکہ یہ رشتے ناطے کسی شخص کو اسکی پیدائش کے حادثے کے نتیجے میں وارثت میں نہیں ملے ہوتے بلکہ ان رشتے ناطوں کو اس نے بذات خود اپنی مرضی کے تحت استوار کیا ہوتا ہے- تاہم یہ رشتے ناطے ایک مختصر دورانیے پر محیط ہوتے ہیں- آغاز میں ان رشتے ناطوں میں اس قدر شدت اور گرمجوشی پائی جاتی ہے جس طرح دو نوجوان بالغوں کے درمیان محبت میں شدت اور گرمجوشی پائی جاتی ہے ۔

 

دھرمندرا میں ریس کے گھوڑے کی کچھ خصوصیات پائی جاتی تھیں ۔ ۔ ۔ ۔ دیویانی کے تبصرے نے اسے ایک اعلی درجے کا ریس کا گھوڑا بنا ڈالا- اس نے لکھا کہ وہ گھر واپس لوٹ کر اپنی بیوی کے بستر پر اپنا `ہوم ورک`سرانجام دینے سے بیشتر اسٹوڈیو میں دو یا تین چونکا دینے والے واقعات میں ملوث ہوتا تھا- دھرمندرا بہت پریشان تھا- لہذا اس نے اسے ایک دوپہر ریس کورس کے نزدیک راستے میں روک لیا ۔

میں ہندی فیچر فلموں میں بہت کم دلچسپی کا حامل ہوں- لہذا مجھے ہندی فلموں اور ہندی فلموں کے اداکاروں کے بارے میں بہت کم معلومات حاصل ہیں- اگر مجھے مجبور کیا جاۓ کہ میں کوئی ہندی فلم دیکھوں تو میں اس فلم کی ابتداء سے اختتام تک بت بنا بیٹھا رہتا ہوں- میرے نزدیک ہندی فلم ناقابل یقین واقعات اور حادثات کا ایک مجموعہ ہے- اگرچہ ہندی فلموں کے چند ایک اداکار اور ادکارہ ایسی بھی ہیں جن کی میں تعریف کۓ بغیر نہیں رہ سکتا- لیکن دیگر اداکار اور ادکارہ اس معیار کے حامل نہیں کہ انکی تعریف کی جاۓ- میں نے کبھی کوئی فلمی رسالہ نہیں خریدا لہذا میں ان چمکتے دمکتے فلمی ستاروں کی ذاتی زندگی کے بارے میں کچھ بھی نہیں جانتا ۔

1969میں جب میں پہلے پہل ممبئی پہنچا تو ممبئی میں وارد ہونے کا میرا مقصد `دی السٹریڈیٹ ویکلی آف انڈیا` کے ایڈیٹر کا عہدہ سنبھالنا تھا- اس عہدے کی وساطت سے مجھے ایک کثیر تعداد میں فلمی رسائل مفت میں پیش کۓ جاتے تھے ۔




Copyright © Bahoo.org 2008
14 Fortress Stadium, Lahore Cantt, Pakistan.
Ph: + 92 423 6623108