::*Urdu Books*::
::*Urdu Books*::
    Quick Search
 
Title Author Publisher
            Members Area
Username:
Password:
                                                                  Forget Password
Special Offer  
see all subjects
No Item in cart
Art & Literature > Sofi-ism > Sufi Muhammad Abdula  
Book Detail
 
 
Sufi Muhammad Abdula
صوفی محمد عبداللہ رحمہ اللہ  
Author/Translator: Muhammad Ishaq Bhatti 
Price: $ 8.6
Format: Hard Cover, 446Pages, Weight: 710 gm
Product-Id: 1011023
Publisher: Maktaba Qadoosia
Publish date: 2006
Productid:1011023  
Quantity:
 

 

اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ حضرت صوفی عبداللہ رحمتہ اللہ علیہ کے حالات میں کتاب ضبط تحریر میں آ گئی- کتاب سینتیس ابواب پر مشتمل ہے- میں یہ دعوی نہیں کر سکتا کہ از اول تا آخر صوفی صاحب کی زندگی کے تمام واقعات اس کتاب کے صحفات میں لپیٹ لیے گۓ ہیں اور انکی جہادی کوششوں اور خدمت دینی کے ہر پہلو کا اس میں احاطہ کر لیا گیا ہے،ایسا کوئی بھی نہیں کر سکتا اور یہ ممکن بھی نہیں- نہ وہ حالات رہے ہیں،نہ اس عہد کے واقعات کا کوئی عینی شاہد موجود ہے اور نہ اس زمانے میں ان واقعات کو تحریر کی سلک میں پرونے کا کسی کو کبھی خیال آیا- جن لوگوں میں انھوں نے زندگی بسر کی،انھوں نے بھی انکے حالات جمع کرنے کی کوشش نہیں کی ۔

میں نے صوفی صاحب سے ملنے اور تھوڑا بہت تعلق رکھنے والے حضرات سے مسلسل رابطہ رکھ کر یہ واقعات بڑی مشکل اور محنت سے جمع کیے ہیں جو لائق احترام قارئین کے پیش خدمت ہیں ۔

شکرکاں محنت بے حد و شمار آخر شد

صوفی صاحب کا تعلق اس جماعت مجاہدین سے تھا جو حضرت سید احمد شہید،مولانا شاہ اسماعیل شہید اور انکے سراپا خلوص رفقاۓ کرام کی مساعی جلیلہ سے معرض قیام میں آئی تھی اور اس وقت آئی تھی،جب مغل حکومت حالت نزع میں تھی اور اپنی طویل زندگی کے آخری سانس لے رہی تھی ۔

 

مغلیہ حکومت کے قیام میں جہاد کا جذبہ

برصغیر کی تاریخ حکمرانی کا مطالعہ کیا جاۓ تو عجیب و غریب مناظر سامنے آتے ہیں- بہت سے خاندانوں کے بے شمار حکمران یکے بعد دیگرے تخت ہند پر متمکن ہوۓ ہیں،جن میں سب سے بڑا خاندان مغلیہ خاندان ہے،جسکے انیس حکمرانوں نے اپنی اپنی باری سے اس ملک کے اورنگ اقتدار کو زینت بخشی- اس خاندان کا سب سے پہلا حکمران ظہیر الدین بابر تھا،جو باقاعدہ اس ملک کا بادشاہ بنا- اس نے بارہ سال کی عمر میں ترکستان کے شہر فرغانہ کے بادشاہ کی حیثیت سے اپنی حکمرانی کی زندگی کا آغاز کیا تھا- لیکن اسکے حریفوں نے اسکے ساتھ ایسا اذیت ناک رویہ اختیار کیا کہ وہ اپنے آبائی وطن کی سکونت ترک کرنے پر مجبور ہو گیا- وہاں سے نکل کر کابل پہنچا اور کابل میں اپنی حکومت اختیار کر لی ۔

بابر نہایت بہادر،انتہائی مستقل مزاج،بے حد مدبر اور بہ درجہ غایت صاحب فراست حکمران تھا- اسکے ساتھ ہی بہت پڑھا لکھا اور کثیر المطالعہ شخص تھا- نماز روزے کا پابند تھا اور قرآن مجید کی تلاوت کثرت سے کرتا تھا- اسکی یہ خوبی بہت سے حکمرانوں سے اسے ممتاز کرتی ہے کہ جہاں حریف کے مقابلے میں اسکی تلوار تیزی کےساتھ چلتی تھی،وہاں علم کی خدمت کےلیے اسکا قلم بھی صفحات قرطاس پر نہایت ہنرمندی کےساتھ رواں دواں رہتا تھا- وہ بعض فقہی کتابوں کا مصنف تھا،خط بابری کا موجد تھا اور صاف ذہن اور عالی فکر حکمران تھا- نرم دل اور نیک خو تھا ۔




Copyright © Bahoo.org 2008
14 Fortress Stadium, Lahore Cantt, Pakistan.
Ph: + 92 423 6623108