::*Urdu Books*::
::*Urdu Books*::
    Quick Search
 
Title Author Publisher
            Members Area
Username:
Password:
                                                                  Forget Password
Special Offer  
see all subjects
No Item in cart
Art & Literature > Khizan Mai Konmpal  
Book Detail
 
 
Khizan Mai Konmpal
خزاں میں کونپل 
Author/Translator: Atia Saeed 
Price: $ 10.29
Format: Hard Cover, 248Pages, Weight: 420 gm
Product-Id: 1010757
Publisher: Sang e meel Publications
Publish date: 2004
Productid:1010757  
Quantity:
 

 

پیش لفظ

کافی عرصہ پہلے جب آئزک ڈینسن کی لکھی ہوئی حکاتیں میرے زیر مطالعہ تھیں تو ان کے نیلے رنگ کا شغف مجھے بہت بہکاتا تھا۔ نیلے آسمان نیلے پھول نیلے پہاڑ کا ذکر تو خوب چلتا لیکن جب نیلی ہوا کا ذکر آتا تو کچھ کھدبد ہونے لگتی۔ معاملہ اس سے بڑھنے لگتا ان کے سانسوں سے سرخ اور نیلے نوٹوں کی بو آرہی ہے ۔ اس رات کی رانوں میں تنہا ایک پھول مہکتا ہے اس رات کے کوکھوں کے حلقہ میں ذہن بھٹکتا رہتاہے ۔ ایک فطری زندگی ملتی تھی ایک قطرہ موت تھی ایک آنسو کے لبوں پر زہر کی نیلاہٹیں دوسرے کے صحن میں شیر وشکر کی بھیڑ تھی ۔ زہر ہر جگہ ہر وقت سے پہلے پہنچ گیاہے  سڑکوں کے ہونٹ نیلے پڑکۓ ہيں عمارتوں کی جلد پھٹ گئ گلیوں کی رگوں میں خون جم گیا۔ صفات کا استعمال مجروہی نہيں دھماکہ خيز بھی ہے ۔ ایک مطقے کے رنگ اور حسیات کو کسی دوسرے منطقے کے دوسرے رنگوں کے ساتھ ایسے جکسٹاپور کیاہے  کہ ایک فشار کی کیفیت جنم لیتی ہے۔ آئزک ڈینسن کے نیلے رنگ کے تناظر میں محمد انور خالد کی ایک نظم نیلی لڑکی جو رسالے آج میں شائع ہوئی دامن دل کھینچتی ہے  کہ رنگ وہ اپنے گھر سے نیلی ہو کر آئی تھی سو اس نے رنگ بدلے آ‎سمانوں کے زمینوں پر ہواؤں کو درختوں پر اٹھایا۔

سمندر پر الٹ دی آسماں کی میز گھر جاکر بہت روئی وہ اپنی ساعت زنجیر پر چلتے ہوۓ لغزش نہيں کھاتی۔ 


وہ اپنے آیئنوں پر میل جمنے سے بہت پہلے انہيں آلودہ کر دیتی ہے اپنے عکس سے جب نیل پڑجاتے ہيں اس پر انگلیوں پر روپ آجاتا ہے شاہی روشنائی کا وہ اپنی داستاں خود آپ لکھتی آپ سنتی بیٹھ کر دیوار پر دیوار چنتی عکس کو زمین پر رکھ کر پلٹتی اور نیلی ہو کے پڑ جاتی سیاہی پھیل جانے پر مجھے آواز دیتی میں سارے رنگ اپنے چاہتا تھا بدلدیتی ہے  سارے رنگ نیلے آ‎سمانوں کے زمینوں کے وہ اپنے گھر سے نیلی ہو کر آئی ہے ۔

یہاں پر ابتدائی لائن بالکل نارمل ہے ۔ وہ گھر سے نیلی ہو کر آتی تھی مارپیٹ یا زہر آلودگی سے۔ اس پر اس نے آسمانوں اور زمینوں کے رنگ بدل ڈالے۔ سمندر پر الٹ دی آ‎سمآں کی میز۔ یہ سطور ابنارمل ہیں ۔ اس کے بعد وہ پھر نارمل ہو جاتی ہے ۔ گھر جاکر بہت روئی نارمل اور ابنارمل صورت حال اور بیانیہ یونہی بڑھتا ہے وہ اپنی ساعت زنجیر پر چلتے ہوۓ لغزش نہيں کھاتی۔ وہ اپنے آئينوں پر میل جمنے سے بہت پہلے  انہیں آلودہ کردیتی ہے ۔




Copyright © Bahoo.org 2008
14 Fortress Stadium, Lahore Cantt, Pakistan.
Ph: + 92 423 6623108