::*Urdu Books*::
::*Urdu Books*::
    Quick Search
 
Title Author Publisher
            Members Area
Username:
Password:
                                                                  Forget Password
Special Offer  
see all subjects
No Item in cart
Social & Political > Afghanistan > Osama Bin Ladin (Mujahid Ya Dehshat Gard)  
Book Detail
 
 
Osama Bin Ladin (Mujahid Ya Dehshat Gard)
اسامہ بن لادن مجاہد یا دہشت گرد؟ 
Author/Translator: Ibn e Atta 
Price: $ 3.99
Format: Hard Cover, 224Pages, Weight: 335 gm
Product-Id: 1007504
Publisher: Brite Books
Publish date: Oct 2001
Productid:1007504  
Quantity:
 

 

اسامہ بن لادن کے دیس سے اپنے دیس تک

میں آج سے کوئی پندرہ برس قبل جب پہلی مرتبہ سر زمین حجاز پر اترا تو مکہ مکرمہ میں حرم شریف کی توسیع کا کام ہمیشہ کی طرح جاری تھا۔ یہ کام بن لادن نامی کمپنی انجام دے رہی تھی۔ اس کے چند روز بعد مدینہ منورہ گیا تو وہاں بھی مسجد نبوی کی تعمیر و توسیع میں بن لادن کے ماہرین و کارکن مصروف تھے۔ مجھے جلد ہی پتہ چل گیا تھا کہ سعودی عرب کی دو تین بڑی تعمیراتی کمپنیوں میں سے ایک بن لادن گروپ کی کمپنی ہے۔ خصوصا حرمین شریفین کی عظیم الشان عمارتوں کی تعمیر و توسیع کی سعادت اس کمپنی کے حصے میں آئی ہے۔ کچھ عرصہ بعد معلوم ہوا کہ ہمارے عزیز جدہ سے مکہ مکرمہ جانے والی شاہراہ پر بحرہ کے مقام پر بن لادن گروپ کی ایک فیکٹری کی تعمیر کرنے والوں میں شامل ہیں۔ یہ غالبا سعودی عرب کی پہلی فیکٹری تھی جس نے انتہائی جدید مشینری کے ساتھ مٹی کے بلاکس اور اینٹیں بنانے اور ان کو پکا کر سرخ کرنے کا کام شروع کیا۔ اس سے قبل یہاں سیمنٹ اور بجری کی اینٹیں اور بلاک استعمال کرنے کا رواج تھا۔ جلد ہی ہم نے دیکھا کہ سرخ بلاک اور اینٹیں استعمال ہونے لگيں۔ اس طرح عثمان احمد عثمان اور شرکہ الصفاء کے ساتھ بن لادن ٹوٹی پھوٹی اور تنگ سڑکوں کی جگہ بین الاقوامی معیار کی شاہراہیں تعمیر کرنے میں بھی سب سے آگے نظر آتے تھے۔

 

اس مقدس سر زمین پر برسہا برس قیام کے دوران سعودی عرب کے متمول خاندانوں کی بے بہا دولت اور ان کے نوجوانوں کے عیش و عشرت کی داستانیں بھی سننے کو ملتی ہيں۔ اس زمانے میں محمد عبد و سعودی ٹی وی پر اپنے گٹار سمیت گاتے نظر آتے تھے۔ مکہ مکرمہ کے ایک مشہور خاندان کے نوجوان کی بڑی کمپنیوں میں ملازمت اور کامیابیوں کے تذکرے اپنے چچا زاد بھائیوں سے سنے جو کہ اس خاندان میں ملازمتیں کر رہے تھے۔ محمد عبدو اور مغربی عطور کے ڈیلر محمود سعید اسامہ بن لادن اور معلم عمر اکبر کے خاندان کا مزکورہ نوجوان آپس میں گہرے دوست تھے۔ وہ اکٹھے رہتے کھاتے پیتے اور مغربی ممالک کے اہم شہروں کے سیر سپاٹے کو جاتے اور یقینا وہی کچھ کرتے جو متمول عرب وہاں کرتے ہيں۔ انہوں نے کئی ملکوں میں جائیدادیں خریدیں بڑی کمپنیوں میں حصہ دار بنے۔ پھر نجانے کیا ہوا۔ کہاں سے نصیحت آئی کہ مشہور مغنی و مطرب محمد عبدو بن لادن محمود سعید اور عدنان کے چہروں پر داڑھیاں نظر آنے لگيں انہوں نے پورے اہتمام سے مذہبی شعائر کی پابندی شروع کر دی اور جہادی تنظیموں کی مدد شروع کر دی۔ اسامہ بن لادن ان میں سب سے آگے چلے گۓ۔ یہ نوجوان کھرپ پتی۔ سر پہ کفن باندھ کر گھر سے نکلا اور جہاد کے لۓ افغانستان کے اگلے مورچوں میں جا پہنچا۔ میں نہيں جانتا کہ اس سے قبل وہ اور اس کے ساتھی کس مرد کامل سے ملے جس نے ان کی کایا پلٹ دی اور وہ دوسرے امیر زادوں جیسے مشاغل چھوڑ کر ایسی کھٹن راہوں پر چل نکلے۔ جن پر چلنے کا فیصلہ بڑے دل اور ہمت والے کیا کرتے ہیں۔ ہاں چند سال قبل جب میں ایک دفعہ پھر کئی سالوں کے وقفے سے سعودی عرب گیا تو وہاں کے نوجوانوں کی اکثریت میں حیرت انگيز تبدیلی دیکھی۔ وہ امریکیوں سے نالاں نظر آۓ۔ میں نے اعلی سرکاری عہدوں پر فائز امریکہ اور دیگر مغربی ممالک سے تعلیم یافتہ نوجوانوں کو اپنی تنخواہ کا مخصوص حصہ جہاد میں مصروف مجاہدین کے لۓ ارسال کرتے دیکھا۔ اس سے قبل صرف فلسطینی نوجوان ہی ایسا کرتے تھے۔ کہ اسرائیل کے خلاف طویل جنگ لڑنے والی تنظیموں کو اپنی آمدنی کا مخصوص حصہ بہر صورت بھجواتے تھے۔

میں پروفیسر محمد یحی کے اس خیال سے سو فیصد متفق ہوں کہ جب بھی اسامہ بن لادن سعودی عرب واپس جائيں گے تو ان کا وہاں استقبال خمینی کے استقبال کو پیچھے چھوڑ جاۓ گا۔ میں نے یہ بات خاص طور پر نوٹ کی ہے کہ اسامہ بن لادن سعودی عرب کے بارے میں بات کرتے ہوۓ اسے کبھی سعودی عرب نہيں کہتے وہ اس ملک کو مقدس سر زمین حجاز و نجد یا جزیرہ عرب کے تاریخی ناموں سے یاد کرتے ہيں۔ ویسے بھی دیکھا جاۓ تو آل سعود نے اس سرزمین کو سعودی عرب کے نام دے کر اپنی حکمرانی اور شاہی کو دوام دینے کی کوشش کی۔ اب اس مملکت کا ہر باشندہ "سعودی" کہلاتا ہے حالانکہ اس کا آل سعود کے خاندان سے کوئی خونی رشتہ نہيں ہے اور یوں یہ لفظ اپنی شناخت کے لۓ استعمال کرنا غیر اخلاقی کہا جا سکتا ہے۔ سعودی قوانین اور فرامین کے تحت سعودی عرب کی تمام زمین عوام کی جان و مال سب کچھ سعودی شاہی خاندان کی ملکیت تصور کی جاتی ہے۔ وہ جس کو چاہيں شہریت سے محروم کر دیں۔ چاہے وہ اس دھرتی کا سپوت ہی کیوں نہ ہو۔ جب سے وہاں امریکیوں نے ڈیرہ ڈالا ہے۔ سعودی خفیہ ایجنسیاں مزید فعال بنا دی گئی ہیں۔ میں دعوے سے کہتا ہوں کہ وہاں اس مقدس سر زمین پر آپ اپنے گھر یا کسی بھی چار دیواری کے اندر کوئی بھی غیر اخلاقی کام کر رہے ہيں۔ اور کوئی جا کر متعلقہ ادارے کو بتاۓ تو اس پر کوئی کاروائی نہيں ہوتی۔ لیکن اگر انہيں کہیں سے بھنک مل جاۓ کہ آپ لوگ کچھ مل بیٹھے ہیں یا مل کر کوئی سنجیدہ بات کرنا چاہتے ہيں تو ایجنسیاں حرکت میں آ جاتی ہیں اور آپ کو غائب کر دیا جاتا ہے۔




Copyright © Bahoo.org 2008
14 Fortress Stadium, Lahore Cantt, Pakistan.
Ph: + 92 423 6623108