::*Urdu Books*::
::*Urdu Books*::
    Quick Search
 
Title Author Publisher
            Members Area
Username:
Password:
                                                                  Forget Password
Special Offer  
see all subjects
No Item in cart
Religion > Khulfa O Sahaba > 313 Ashaab e Badar  
Book Detail
 
 
313 Ashaab e Badar
313 اصحاب بدر 
Author/Translator: Muhammad Suliman Salman Mansoor Puri 
Price: $ 4.48
Format: Hard Cover, 201Pages, Weight: 325 gm
Product-Id: 1006661
Publisher: Choudhary Academy
Publish date: Feb 2000
Productid:1006661  
Quantity:
 

 

پیش لفظ

تمام تر تعریفیں اللہ عزوجل کے لیے ہیںجو خالق کائنات ہے ۔ اور اس کا ئنات میں تمام تر امور پر قادر ہے ۔ اس کائنات کی کوئی شے اس کے حکم کے خلاف کسی امر میں کوئی قوت نہیں رکھتی ۔ قادر مطلق جل شانہ نے روز اول میں تمام بنی نوع انسان کی ارواح کو حضرت آدم علی نبیئا کی پشت سے برآمد کیا اور ان سے اپنی ربوبیت اور خدائی کا اقرار لیا۔ کلام اللہ شریف میں ارشاد ربانی کہ:

اور جب کہ (اے محمدۖ) آپ کے رب نے آدم کی پشت سے ان کی اولاد کو نکالا اور ان سے انہی کے متعلق اقرار لیا کہ کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں۔ سب نے جواب دیا کہ کیوں نہیں۔

 

یقینی طور پر رب کریم جل جلالہ کی طرف سے یہ پہلا عہد تھا جو انسانوں سے اس نے اپنی بندگی اور عبادات کے لیے لیا ۔ اور اسی عہد کی یاد دہانی کے لیے ہی ہزاروں انبیاء علیہم السلام اور رسولوں کو مبعوث فرمایا۔ ان کے ذمہ مخلوق کی درست رہنماغی اور پیشوائی کے امور تھے۔ چنانچہ روز اول میں ہی تمام انبیاء علیہم السلام اور رسولوں اور مذہبی پیشواؤں سے یہ عہد بھی لیا گیا کہ جب سید الانبیاء والرسل وار سلسلہ نبوت و رسالت کے خاتم سرکار دو عالم محمد رسول اللہۖ کی بعث مبارکہ ہو تو ان پر ایمان لائیں اور ہر طرح سے آپ ۖ کی حمایت و نصرت کریں۔ چنانچہ ارشاد باری تعالی جل شانہ ہے کہ:

ترجمہ۔ اور جب کہ اللہ تعالی نے انبیاء سے عہد لیا کہجو کچھ میں تم کو کتاب اور علم دوں اور پھر تمہارے پاس کوئی پیغمبر آۓ جو مصدق ہو۔ اس کا جو تمہارے پاس ہے۔ تو تم ضرور اس رسول پر اعتقاد بھی لانا وار اس کطرفرداری بھی کرنا۔

فرمایا کہ کیاتم نے اقرار کیا اور اس پر میرا عہد قبول کیا۔ انہوں نے کہا ہم نے اقرار کیا۔ ارشاد فرمایا کہ گواہ رہنا اور میں اس پر تمہارے ساتھ گواہوں میں ہوں۔

لازمی بات کہ ان آیات بینات میں آنحضرت ۖ کی ذات گرامی کی طرف اشارہ قدسی ہے ۔ یعنی روز اول ہی میں تمام انسانوں سے اپنی خدائی اور عبادت و بندگي کا عہد اللہ جل شانہ نے لیے لیا اور تمام انبیاء علیہم السلام ، رسولوں اور مذہبی پیشواؤں سے دین متین کی تصدیق و توثیق ارو نصرت و حمایت کا عہد لے لیا  گیا۔ یا آپ یوں بھی خیال فرما سکتے ہیں کہ انبیاء کرام ، رسولوں اور مذہبی پیشواؤں کی وساطت سے تمام بنی نوع انسان سے دین محمدیۖ کی تصدیق اور نصرت و حمایت کا عہد لیا گیا تھا۔ پھر کسی طرح ان کے متبعین کو اس اقرار و اعتراف سے انحراف ممکن تھا۔ اور کہاں گنجائش تھی۔




Copyright © Bahoo.org 2008
14 Fortress Stadium, Lahore Cantt, Pakistan.
Ph: + 92 423 6623108