::*Urdu Books*::
::*Urdu Books*::
    Quick Search
 
Title Author Publisher
            Members Area
Username:
Password:
                                                                  Forget Password
Special Offer  
see all subjects
No Item in cart
Religion > Khulfa e Rashdeen  
Book Detail
 
 
Khulfa e Rashdeen
خلفاۓ راشدین 
Author/Translator: Moin Ud Din Ahmed Nadvi 
Price: $ 4.00
Format: Hard Cover, 344Pages, Weight: 480 gm
Product-Id: 1006577
Publisher: Islami Academy
Publish date: Jul 2001, 1st Edition
Productid:1006577  
Quantity:
 

 

اس سے پہلے

کہ "خلفاۓ راشدین" کے حالات پڑھے جائيں ضرورت ہے کہ خلاف راشدہ کا مفہوم و منشاء سمجھ لیا جاۓ خلافت کے لغوی معنی "جانشینی" اور کسی کی جگہ پر اس کے بعد بیٹھنے کے ہیں یہ لفظ خود اپنے مفہوم و منشاء کو ظاہر کر رہا ہے کہ وہ ایک اصل کا سایہ ایک آئینہ کا عکس اور ایک حقیقی منصب کی قائم مقامی ہے۔ اسی کو امام کے لفظ سے بھی تعبیر کیا جاتا ہے اور یہ دونوں لفظ خلیفہ اور امام ایک ہی شخص کی دو مختلف حیثیتوں کو ظاہر کرتے ہيں اپنے پیش رو کے نائب اور قائم مقام ہونے کے لحاظ سے وہ خلیفہ اور اپنے زمانے کے پیروؤں کے لحاظ سے وہ امام اور پیشوا ہے۔ اس بنا پر در حقیقت خلافت و امامت پیغمبر کی قائم مقامی اور اس کے بعد اس کی امت کی پیشوائی ہے ضحیحین میں یہ حدیث ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:

"کہ تم سے پہلے بنی اسرائیل میں پیغمبر اور انبیاء سیاست کرتے تھے جب ایک پیغمبر مرتا تھا تو دوسرا پیغمبر پیدا ہوتا تھا لیکن پیغمبری اب ختم ہو گئی تم میں خلفاء ہوں گے"۔

 

اس سے واضح ہوتا ہے کہ خلافت پیغمبری کی نیابت اور قائم مقامی ہے اور نبوت کے بعد اسلام میں یہ سب سے بڑا درجہ و رتبہ ہے اسی لیے ان امور میں جن کی نسبت پیغمبر کی وحی اور فیصلہ موجود نہ ہوں اس کا حکم اور فیصلہ بھی واجب الاطاعت ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ "میرے بعد میرے ہدایت پاۓ ہوۓ جانشینوں کی پیروی کرو"۔ اسی لیے ایک پیغمبر کے انتخاب کے لیے ظاہری حیثیت سے اس کی سیاسی و انتظامی استعداد اور صلاحیت کو دیکھا جاۓ اس سے بہت زیادہ اس کے اندر پیغمبرانہ صحبت کی اثر پذیرائی اور اس کے روحانی و علمی و اخلاقی فضائل و مناقب کی تلاش کرنی چاہيۓ ان چار بزرگوں کا درجہ بدرجہ اس منصب اعظم کے لے انتخاب اس نقطہ نظر کی تشریخ و توضیح ہے۔

اسلام میں خلافت کے فرائض اس قدر وسیع اور عالمگیر ہيں کہ تمام دینی و دنیوی مقاصد کی تکمیل اس کے تحت میں آ جاتی ہے لیکن اس کی اجمالی تشریح صرف ایک فقرہ مین کی جا سکتی ہے یعنی پیغمبر کے کاموں کو قائم اور باقی اور ہر خارجی آمیزش سے پاک و صاف رکھنا اور ان کو ترقی دینا۔ یہ فقرہ ایک لفظ میں بھی سما سکتا ہے۔ یعنی "امامت دین" لیکن یہ لفظ خود اس قدر وسیع ہے کہ تمام دینی و دنیوی مقاصد کو شامل ہو جاتا ہے اور اقامت ارکان اسلام مثلا نماز، روزہ، زکوۃ، حج، امر بالمعروف و نہی عن المنکر، جہاد، نصب، قضاۃ، اقامت حدود اور وعظ و پند و تعلیم وغیرہ س اس کے جزئیات میں داخل ہو جاتے ہیں۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پاک زندگی ان ہی مقاصد کی تکمیل میں صرف ہوئی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد جو لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلیفہ و جانشین ہوۓ انہوں نے بھی اپنی زندگی کو ان ہی مقاصد کی تکمیل کے لیے وقف کیا خلفاء کے دور بلکہ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں اگرچہ ان مقاصد کی تکمیل کے لیے الگ الگ اشخاص مقرر تھے مثلا نماز کی امامت اور صدقات و زکوۃ کے وصول کرنے کا کام مخصوص اشخاص سے متعلق تھا۔




Copyright © Bahoo.org 2008
14 Fortress Stadium, Lahore Cantt, Pakistan.
Ph: + 92 423 6623108