::*Urdu Books*::
::*Urdu Books*::
    Quick Search
 
Title Author Publisher
            Members Area
Username:
Password:
                                                                  Forget Password
Special Offer  
see all subjects
No Item in cart
Religion > Non Islamic > Jhotay Nabi  
Book Detail
 
 
Jhotay Nabi
جھوٹے نبی 
Author/Translator: Abul Qasim Dilawri 
Price: $ 11.49
Format: Hard Cover, 600Pages, Weight: 800 gm
Product-Id: 1006569
Publisher: Nigarshat
Publish date: 2003
Productid:1006569  
Quantity:
 

 

صاف ابن صیاد مدنی

عہد جاہلیت میں کہانت کا شیوع:۔

حضرت بشیر و نذیر ہاشمی علیہ الصلوۃ والسلام کی بعثت سے پیشتر عرب میں عام دستور تھا کہ لوگ غیرب کی خبریں اور مستقبل کے حالات معلوم کرنے کے لۓ کاہنوں کی طرف رجوع کرتے تھے اور خصوصیات کا معاملہ بھی زیادہ تر انہی کی مرضی اور صواب وید پر موقوف رہتا تھا چونکہ یہ مدعیان غیب دانی مرجع انام اور قبلہ حاجات بنے ہوۓ تھے۔ انبیاء کرام کی روحانی تعلیمات بھی اسی طائفہ کی دکان آرائیوں میں گم ہو رہی تھیں لیکن جب مرغان حرم نے توحید کی نغمہ سرائی کی اور حضرت خلاصہ موجودات سید العرب و العجم سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت پر کشور انسانیت کی از سر نو تعمیر و تاسیس کا کام شروع ہوا تو کاہنوں کی بساط مقتدائی یکسر الٹ گئی اور کوئی شخص ان کا پرسان حال نہ رہا۔ جس طرح نیراعظم کی ضیاپاشیوں میں کرمک شب تاب قعر گمنامی میں مستور ہو جاتا ہے اسی طرح سحر و کہانت کی ہمہ گیر تاریکیاں بھی آفتاب رسالت کے طلوع ہوتے ہی نابود ہو گئیں اور ظلمت سحر و کہانت کی جگہ آسمانی تعلیمات کا نور مبین افق عالم پر لمعہ المگن ہوا۔ کہانت و نجوم کے ان دکانداروں میں صاف نام ایک یہودی بھی تھا۔ جو ناموس الہی کے آخری ایام سعادت میں مدینہ منورہ میں ظاہر ہوا اور اسلامی حلقوں میں ابن صیاد کی کنیت سے مشہور ہے۔

 

کیا ابن صیاد مسلمان تھا؟

ابن صیاد سحر و کہانت میں ید طونی رکھتا تھا۔ گو نبوت کا مدعی تھا لیکن کسی روایت سے یہ امر پایہ ثبوت کو نہيں پہنچا کہ وہ کسی دن دوسرے خانہ ساز نبیوں کی طرح باقاعدہ بے ہمتائی و یکتائی کی مسند غرور پر بیٹھا ہو اور کسی نے اس کے دعوی نبوت کی تصدیق کر کے اس کی متانت کی ہو۔ ابن صیاد بعد میں بظاہر مسلمان ہو گیا تھا مگر معلوم ہوتا ہے کہ اس کا اسلام شائبہ نفاق سے پاک نہ تھا جس کے بہت سے دلائل و شواہد پاۓ جاتے ہيں جن میں سے بعض یہ ہیں کہ وہ جناب خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے بعد دعوی نبوت کر کے دائرہ اسلام میں داخل نہيں رہ سکتا۔ اس کے علاوہ حضرت ابو سعید خدری کا بیان ہے کہ ایک مرتبہ ابن صیاد کے سامنے وجال کا ذکر آیا۔ میں نے اس سے ازراہ مذاق کہا تیرا برا ہو کیا تو وجال ہونا پسند کرتا ہے کہنے لگا کہ اگر وہ تمام قدرت وج دجال کو دی جاۓ گی۔ مجھے عطا کی جاۓ تو میں دجال بننا ناپسند نہ کروں۔ ابن صیاد کا یہ جواب اس کے دلی خیالات و عقائد کا صحیح آئینہ ہے جس سے معلوم ہو سکتا ہے کہ اس کے دل پر شیفتگی اسلام و ایمان کے نقش کہاں تک مرتسم تھے؟




Copyright © Bahoo.org 2008
14 Fortress Stadium, Lahore Cantt, Pakistan.
Ph: + 92 423 6623108