::*Urdu Books*::
::*Urdu Books*::
    Quick Search
 
Title Author Publisher
            Members Area
Username:
Password:
                                                                  Forget Password
Special Offer  
see all subjects
No Item in cart
Business & Technical > Well Living > Iman Aur Akal  
Book Detail
 
 
Iman Aur Akal
ایمان اور عقل 
Author/Translator: Abul Kalam Azad 
Price: $ 4.24
Format: Hard Cover, 176Pages, Weight: 300 gm
Product-Id: 1006554
Publisher: Maktaba Quraniaat
Publish date: Feb 1996, 3rd Edition
Productid:1006554  
Quantity:
 

 

عرض مرتب

بر چہرہ حقیقت اگر ماند پردہ

جرم نگاہ دیدہ صورت پرست ماست

آج کا متمدن انسان اگرچہ حریت فکر آزادی راۓ اور رواداری کے فخریہ دعوے رکھتا ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ وہ کیف و کم کے لحاظ سے پہلے سے بھی زیادہ تعصب جانبداری اور تنگ نظری کا شکار ہے اس لیے وہ بعض اعلی تعلیمات اور باکمال شخصیات کے بارے میں نہایت متعصبانہ بلکہ معاندانہ رویہ رکھتا ہے۔

یہ صورت حال تلاش حق کی راہ کا سب سے گراں پتھر ہے۔

لیکن باشعور انسانوں کے لیے صحیح نقطہ نظ یہی ہو سکتا ہے کہ وہ یہ نہ دیکھیں کہ کون کہہ رہا ہے بلکہ یہ دیکھیں کہ کیا کہہ رہا ہے۔ انضر الی ما قال ولا تنظر الی من قال ہ

پھر جو کچھ اس نے کہا ہے اس پر غور کریں اور حقیقت کی منزل تک پہنچنے کے لیے کسی نشان راہ سے بھی اعراض اور صرف نظر نہ کریں۔ صرف اسی صورت میں ہم لیلاۓ حقیقت سے ہم کنار ہو سکتے ہيں اور گوہر کو پا سکتے ہیں۔

 

دور جدید فکری و نظری اعتبار سے تشکیک اور نفاذ کا دور ہے اور یہ مرض صرف اپنے مولد و منشا عالم کفر ہی میں نہيں پھیلا بلکہ آج پورے عالم اسلام میں اس کا اثر و نفوذ صاف دیکھا جا سکتا ہے۔ موجودہ انسان کے دل و دماغ میں کائنات اور انسانی زندگی سے متعلق جن نۓ تصورات نے پرورش پائی ہے ان میں مادی جبریت وجودیت بے مقصدیت اباجیت قوم پرستی لذت کیشی اور مفادات پرستی کے تصورات نہایت نمایاں ہيں۔ ع

بابر بعیش کوش کہ عالم دوبارہ نیست

پھر انہی مذموم تصورات کے یہ برگ و بار ہیں کہ آج کی متمدن ترین انسانی دنیا میں ظلم و معصیت افتراق و تشتت فتنہ و فساد اور غارت گری و ہلاکت خيزی کا بازار گرم ہے۔ ظہر الفساد فی البر وابحر ۔

یہ ہولناک صور حال مجرد اس بنیادی کج اندیشی اور کج روی کا نتیجہ ہے کہ انسان نے اپنے آپ کو قادر مطلق سمجھ کر خود مختار جان کر اپنی خواہش نفس کو معیار حق و باطل قرار د کر اور خود کو عقل کل تصور کر کے آگے قدم بڑھانا چاہا ہے۔ اب وہ ایک قدم آگے بڑھتا ہے تو اسے دس قدم پیچھے ہٹنا پڑتا ہے۔ اس کی یہ دشت پیمائياں اور صحرا نوردیاں آج محض فی کل واد بھیمون اور بتیھون فی الارض کا منظر پیش کر رہی ہيں اور فلاح انسانیت کی لیلاۓ منزل ہے کہ روز بروز سے دور تر ہوتی چلی جا رہی ہے۔ ع

چند انکہ دست و پا زدم آشفتہ تر شدم




Copyright © Bahoo.org 2008
14 Fortress Stadium, Lahore Cantt, Pakistan.
Ph: + 92 423 6623108