::*Urdu Books*::
::*Urdu Books*::
    Quick Search
 
Title Author Publisher
            Members Area
Username:
Password:
                                                                  Forget Password
Special Offer  
see all subjects
No Item in cart
Religion > Achoot Logon Ka Adab  
Book Detail
 
 
Achoot Logon Ka Adab
اچھوت لوگوں کا ادب 
Author/Translator: Mubarak Ali 
Price: $ 3.99
Format: Hard Cover, 135Pages, Weight: 230 gm
Product-Id: 1006066
Publisher: Fiction House
Publish date: 1994
Productid:1006066  
Quantity:
 

 

تعارف

ڈاکڑ مبارک علی

جو معاشرے ذات پات کی تقسم یا ادنی اور اعلی طبقوں میں بٹے ہوۓ ہیں، وہاں پر مراعات یافتہ طبقے اس بات کی کوشش کرتے ہیں کہیہ فرق باقی رہے، لہذا اس کو مستقل کرنے کی غرض سے جہاں سیاسی نظام کو اس طرح سے تشکیل دیا جاتا ہے کہ جس میں کچلے اور پسے ہوۓ لوگ اقتدار سے محروم رہیں اور بے بس ہو کر اہل اقتدار کے ہاتھوں استحصال کیا شکار ہوتے رہیں۔ دوسری صورت یہ ہوتی ہے کہ انہیںمعاشی طورپر پس ماندہ رکھا جاے تاکہ وہ خوش حال اور مراعات یافتہ لوگوں کے محتاج رہیں۔

اور اس معاشی محتاجی کے نتیجہ میں شکر گزار رہتے ہوۓ ، ان کے وفادار رہیں۔

اس تقسیم اور فرق کو گہرا کرنے کی تیسری چیز سماجی اور ثقافتی قدریں اور روایات ہوتی ہیں، کہ جو روز مرہ کی زندگی میں نچلے طبقوں کو یہ یاد دلاتی رہتی ہیں کہ سماج نے ان کے لۓ جو جگہ مقرر کردی ہے وہ وہیں پر قائم رہیں، اور خود کو ذہنی طور پر اس نچلی حیثیت کے لۓ ہمیشہ تیار رکھیں ۔

 

چنانچہ ہندوستان میں شودروں ، اور اچھوت ذات کے لوگوں کے لۓ یہ سماجی اور ثقافتی روایات مذہب کا حصہ بن گئیں تھیں، مثلا نچلی ذاتوں کے لۓ یہ لازمی تھا کہ وہ اونچی ذات والوں کا احترام کریں، چاہے وہ ان کی عمر میں بڑا ہو یا چھوٹا، اکثر معاشروں میں بزرگ او عمر رسیدہ لوگوں کا احترام کیا جاتا ہے ، مگر اس نظام میں عمر رسیدہ اگر اچھوت ہے تو وہ اونچی ذات کے کم عمر لڑکے سے بھی جھک کر ملے اور اسے خود سے برتر و افضل سمجھے ۔ لہذا ان ذاتوں میں سلام کرنےکے طریقے بھی ذات پات کے لحاظ سے جدا تھے، مثلا اکر برہمن سلام کرے تو داہنے بازو کو کان تک لے جاۓ، لیکن اکر شودر سلام کرے تو اپنے ہاتھ کو پیر تک لے جاۓ۔ اس طرح برہمن ، کشتری اور شودر ذاتوں کی خیریت دریافت کرنےکے لۓ بھی علیحدہ اصطلاحات مقرر تھیں۔ کسی شودر یا اچھوت کو اس بات کی اجازت نہیں تھی کہ وہ اونچی ذات کے لوگوں کا نام لے کر ان سے مخاطب ہو۔ اس سلسلہ میں انہوں نے اپنے قوانین میں وضاحت کی ہے کہ شودر کو بھی اعزازی لب و لہجہ سے مخاطب نہیں ہونا چاہیۓ۔

منو نام رکھنے کے لیۓ بھی قوانین بتاتا ہے تاکہ ناموں سے ذاتوں کے بارے میں پتہ چل جاۓ۔ مثلا برہمن کے نام ایسے ہوں جن سے اچھا شگون ملتا ہو، کشتری کے نام طاقت و قوت کو ظاہر کریں۔ ویش کے نام سے دولت کا اظہار ہو، اور شودر کے نام سے حقارت و ذلت ، لہذا ان چاروں ذاتوں کے نام سے مسرت ، تحفظ ، آسودہ حالی ، اور خدمت کا مفہوم نکلنا چاہیۓ۔




Copyright © Bahoo.org 2008
14 Fortress Stadium, Lahore Cantt, Pakistan.
Ph: + 92 423 6623108