::*Urdu Books*::
::*Urdu Books*::
    Quick Search
 
Title Author Publisher
            Members Area
Username:
Password:
                                                                  Forget Password
Special Offer  
see all subjects
No Item in cart
Religion > Hinduism > Manu Dharam Shastar  
Book Detail
 
 
Manu Dharam Shastar
منو دھرم شاستر 
Author/Translator: Arshad Razi 
Price: $ 8.2
Format: Hard Cover, 352Pages, Weight: 510 gm
Product-Id: 1006031
Publisher: Nigarshat
Publish date: 2003
Productid:1006031  
Quantity:
 

 

پیش لفظ

سیاسی وجوہات کی بناء پر سرکاری مردم شماری سے اغماض بھی برتا جاۓ تو ایک عام اندازے کے مطابق ہندوستان کی ستر فیصد آبادی ہندومت کی پیروکار ہے۔ لیکن اس مذہب کے تاریخی ارتقاء کو سمجھنے کے لیے پیش نظر رکھنا ضروری ہے کہ یہ ہمیشہ سے آج کے ہندوستان کی جغرافیائی حدود تک محدود نہيں رہا۔ گزشتہ چار پانچ ہزار برس کے دوران مختلف ادوار میں نہ صرف آج کے پاکستان اور بنگلہ دیش جیسے ملحقہ علاقوں بلکہ افغانستان سری لنکا جنوب مشرقی ایشیا اور انڈونیشیا تک موثر رہا۔ لیکن ان علاقوں میں ہندومت کو دوسرے مذاہب خصوصا بدھ مت اور اسلام کے ہاتھوں شکست ہوئی اور آج سواۓ ہندوستان اور جزیرو بالی کے باقی ہر جگہ اس کے ماننے والے اقلیت میں ہیں۔

وہ تمدن باہمی تعامل سے ایک دوسرے پر اثر انداز ہوتے ہيں۔ یہ فطری قانون ہے اور سے مفر ممکن نہیں۔ لیکن اریاؤں نے یہاں کے مقامی باشندوں سے کس طرح کے مذہبی اثرات قبول کیے ان کا قدری تخمینہ نہيں لگایا جا سکتا۔ اس مشکل کی کئی وجوہات ہیں جن میں سے سب سے بڑی یہ ہے کہ تاحال وادی سندھ کا رسم الخط نہيں پڑھا جا سکا۔

 

قبل مسیح کی تیسری ہزاری کے وسط میں نو حجری ادوار کے دیہی تمدن سے اپنے سفر کا آغاز کرنے والی یہ تہذیب دو ہزار قبل مسیح اپنے عروج پر پہنچنے کے بعد روبہ زوال ہوئی اور تقریبا سولہ سو قبل مسیح میں ختم ہو چکی تھی۔ یعنی اے میسو پوٹیما اور مصری تہذیب کے آخری ادوار کا معاصرہ بھی قرار دیا جا سکتا ہے۔ جس کے ساتھ اس کے تجارتی تعلقات بھی رہے۔ موجودہ پاکستان مشرق میں دہلی اور جنوب میں دریاۓ نرمدا تک محیط اس تہذیب کے دو انتقامی مراکز موہنجو داڑو اور ہڑپہ تھے۔

ان دو شہروں کی عمارات میں سے نمایاں ترین اجتماعی پوترتا کے لیے استعمال ہونے والے تالاب بھی تھے۔ ان پختہ تالابوں میں نیچے پانی کی سطح تک سیڑھیاں اترتی تھیں۔ وید مذہب کے پیرو کاروں نے اپنے سے قبل بسنے والی تہذیب کا جو مادی تمدنی ورثہ اپنایا ان میں ایسے تالاب غالبا سب سے واضح ہیں۔

آثار قدیمہ سے بالائی دہڑ کے مونث مجسمے بشرے کے تاثرات میں بعد میں بننے والی ہندو دیویوں کے مختلف تیوروں سے مشابہت رکھتے ہيں۔ اصل باشندوں کے نزدیک غالبا یہ دیویاں افزائش حیات کی رسوم سے وابستہ تھیں۔ علاوہ ازیں مہروں پر ابھرواں جانوروں اور درختوں کے خاکوں سے بھی قیاس کیا جا سکتا ہے کہ ویدوں کے پیرو کاروں نے مقامی مذہب کے کچھ اثرات قبول کیے۔ ایک مہر خصوصیت سے قابل ذکر ہے۔ جس میں بیل کے چہرے اور انسان کے دہڑ والی مخلوق یوگا کا آسن بناۓ بیٹھی ہے اور یاد رہے اس کا عضو تناسل ایستادگی کی حالت میں ہے۔ شیو پرستوں اور یوگ کے بعض مکاتب فکر میں اندری پوجا ایک عام مظہر ہے۔




Copyright © Bahoo.org 2008
14 Fortress Stadium, Lahore Cantt, Pakistan.
Ph: + 92 423 6623108