::*Urdu Books*::
::*Urdu Books*::
    Quick Search
 
Title Author Publisher
            Members Area
Username:
Password:
                                                                  Forget Password
Special Offer  
see all subjects
No Item in cart
Religion > Hindu Falsafa Mazhab Aur Nizam e Moashrat  
Book Detail
 
 
Hindu Falsafa Mazhab Aur Nizam e Moashrat
ہندو فلسفہ مذہب اور نظام معاشرت 
Author/Translator: Hamid Hussain 
Price: $ 4.48
Format: Hard Cover, 88Pages, Weight: 210 gm
Product-Id: 1006007
Publisher: Fiction House
Publish date: 2003
Productid:1006007  
Quantity:
 

 

ہندو فکر وار ہم آہنگی کا رحجان

انسانی تہذیب کی تاریخ میں ہندو فکر و نظریے کو جہاں یہ خصوصی امتیاز حاصل ہے کہ اس یمں فکر انسانی کے عروج کے قدیم ترین آثار ملتے ہیں، وہیں وہ یہ بھی ظاہر کرتا ہے کہ وہ بعض ایسی بنیادی اہمیت کی مالک خصوصیات کا مالک بھی ہے جس کی بنا پر وہ ایک اہم تہذیبی روایت کی حیثیت سے اپنے تاریخی تسلسل کو برقرار رکھنے کا اہل رہا ہے۔ ہندو نظریہ حیات آج نہ صرف تاریخی اعتبار سے وقعت رکھتا ہے بلکہ اس میں دور حاضر کی ایک اہم تہذیبی قوت کی حیثیت سے اپنی جانب متوجہ کرنے کی بھی صلاحیت ہے ۔

 

ہندو فکر کی اس بنیادی خصوصیت کا سراغ کچھ حد تک اس امر کو زیر غور رکھ کے لگایا جا سکتا ہے کہ ہندومت کی کوئی ایسی جامع و مانع تعریف ممکن نہیں ہے جسے ہم بعص مخصوص عقائد ، رسوم یا اشکال کو بیان کر کے وضع کر سکیں۔ بظاہر یہ مدعا بڑا مہمل معلوم ہو گا کہ ہندومت کے لیے کسی جامع تعریف کی عدم موجودگي، اس میں موجود کسی بنیادی اہمیت کے مالک مثبت تصور کی جانب ہماری نشان دہی کر سکتی ہے ۔ لیکن ہندومت کو اس کے تاریخی پس منظر میں رکھ کر مطالعہ کرنے کے بعد یہ دعوی مشکل نہیں ۔ ہندوستان میں مختلف نسلوں اور مختلف تہذیبوں کے لوگ تاریخ کے آغاز سے ہی داخل ہوتے رہے اور ان کے باہمی ربط سے ہندو فکر و نظریے کی نہ صرف تشکیل میں مدد ملتی رہی بلکہ اس میں ترمیم و توسیع کا عمل بھی برابر جاری رہا۔ ہندو تہذیب نے اپنا یہ نام اس وجہ سے اختیار کیا کہ اس کے قدیم ترین پر د اس خطے میں آباد تھے جہاں دریاۓ سندھ اور اس کے معاوت دریا بہتے ہیں اور اس خطے کے باشندوں کو ایرانیوں اور وسط ایشیا کے دوسرے حملہ اوروں نے ہندو کا نام دیا تھا۔ پنجاب سے یہ تہذیب دریاۓ گنگا کی وادی میں پھیلی جہاں اس کا وہاں کے قدیم باشندوں کی اپنی لاتعداد روایات اور رسوم سے سامنا ہوا اور ان میں سے کئ روایات اور رسوم کو اس نے اپنے اندر جذب کر لیا۔ جب آریائی تمدن و کن کی جانب بڑھا تو اسے واروڈ تہذیب سے مقابلہ کرنا پڑا ۔ گوکہ اس  مقابلے مین بحیثیت مجموعی آریائ یتمدن نے غلبہ حاصل کیا، لیکن مقامی اثرات کے تحت آریائی تہذیبی اشکال بھی بعض تبدیلیاں قبول کیے بغیر نہ رہ سکیں۔ اس طرح گوکہ اس نۓ تمدن کی بنیاد وہی پرانی دیدوں کے طرز کی تعذیب تھی جس نے دریاۓ سندھ کے علاقے میں فروغ پایا تھا، لیکن اس مین شمالی ہند کے باشندوں ، جنوبی ہند کے دراوڑوں ، وسط ہند کے آدمی باسی قبیلوں اور دوسرے جنگلی اور نیم مہذب گروہوں کے اپنے اپنے معتقدات ، رسوم ، اور ویو مالاؤں کے لیے نہ صرف گنجائش پیدا ہوتی بلکہ بعض حالات میں انہوں نے مرکزی حیثیت بھی حاصل کر لی۔




Copyright © Bahoo.org 2008
14 Fortress Stadium, Lahore Cantt, Pakistan.
Ph: + 92 423 6623108