::*Urdu Books*::
::*Urdu Books*::
    Quick Search
 
Title Author Publisher
            Members Area
Username:
Password:
                                                                  Forget Password
Special Offer  
see all subjects
No Item in cart
General Titles > Animals > Janwaron Kay Anokhay Chasham O Deed Wakiaat  
Book Detail
 
 
Janwaron Kay Anokhay Chasham O Deed Wakiaat
جانوروں کے انوکھے چشم دید واقعات 
Author/Translator: Tariq Mehmood Akrabi 
Price: $ 7.43
Format: Hard Cover, 559Pages, Weight: 700 gm
Product-Id: 1005906
Publisher: Ilm O Irfan Publishers
Publish date: 2003
Productid:1005906  
Quantity:
 

 

بلی

بلی ایک بین الاقوامی جانور ہے اور انسان اب تک کرہ ارض کے جن حیوانوں کو اپنا گہرا دوست بنانے میں کامیاب ہوا ہے ان میں سے ایک بلی بھی ہے۔ دنیا بھر کی قدیم زبانوں اور تمام ملکوں کی لوک کہانیوں میں بلی کا ذکر پایا جاتا ہے اس سے پتہ چلتا ہے کہ انسان کو اب تک کچھ زيادہ معلومات حاصل نہيں ہیں۔ سائنس دان کہتے ہیں کہ یہ جانور شیر کے خاندان سے تعلق رکھتا ہے اور اس کا حلیہ اس دعوی پر شاید ہے۔ چنانچہ قدیم یونانی داستانوں کے مطالعے سے بھی یہی تاثر ابھرتا ہے۔ بلی اور شیر کا کبھی نہ کبھی تعلق ضرور رہا ہے اور یہ ایک ہی خاندان کی دو شاخیں ہیں۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ کسی اتفاقی حادثے کی بدولت جس کا علم ہمیں نہيں ہو سکا بلی شیر سے پیچھے رہ گئی اور اسے وہ فطری نشوونما اور ارتقاء نصیب نہيں ہوا جو شیر کو حاصل ہو چکا ہے۔ اس موقع پر وہ کہانی یاد آتی ہے جس میں بیان کیا گیا ہے کہ بلی نے شیر کو عیاری اور مکاری کے سارے داؤ پیچ سکھا دیے تو شیر نے پوچھا۔ "خالہ بلی! کیا اب کوئی اور داؤ باقی نہيں رہا جو تم نے مجھے نہ سکھایا ہو!" بلی نے جواب دیا "میں نے تمھیں سب داؤ سکھا دیے ہيں۔ یہ سنتے ہی شیر بلی پر جھپٹا تا کہ اسے ہڑپ کر جاۓ۔ مگر بلی آخر اس کی استاد تھی۔ فورا درخت پر چڑھ گئی اور کہنے لگی۔ یہ آخری داؤ میں نے اسی لیے تمھیں نہيں سکھایا تھا۔" چنانچہ دیکھ لیجۓ کہ بلی اور شیر کی حرکات و سکنات اور عادات و خصائل میں کتنی قریبی مشابہت ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ بلی درخت پر چڑھ سکتی ہے اور شیر اس ہنر سے عاجز ہے۔

 

موجودہ زمکانے میں بلی کی وہ حیثیت نہيں جو پرانے زمانے میں تھی۔ آپ شاید یقین نہ کریں لیکن یہ حقیقت ہے کہ قدیم مصر میں بلی کی پوجا ہوا کرتی تھی۔ افریقی قوموں میں کالی بلی کو ہمیشہ بدروح اور فوق الفطرت ہستی سمجھا گیا ہے اور ہمارے پاکستان میں بھی اکثر ضعیف الاعتقاد لوگ ایسے ہیں جو کالی بلی کو منحوس خیال کرتے ہیں اور اگر یہ راستہ کاٹ جاۓ تو برا شگون سمجھتے ہيں۔ جاپانی اور چینی لوگ ہر جانور کو ہڑپ کر جانے میں دنیا کی ہر قدیم سے آگے ہیں۔ مگر انھوں نے کبھی بلی کو اس مقصد کے لیے ہلاک نہيں کیا۔

بلی فطری طور پر آزاد اور خود پسند حیوان ہے۔ اسے قید میں رہنا ہر گز گوارا نہيں ہے۔ انسان سے ہل جانے کے باوجود وہ پابند نہيں رہنا چاہتی۔ مشہور ہے کہ بلی جب تک دس گھر نہ پھر لے اسے چين نہيں آتا۔ قدرت نے اس مختصر سے حیوان کو سوچنے سمجھنے کی حیرت انگيز صلاحیتیں عطا فرمائی ہيں اور نہایت بدترین حالات میں بھی بلی میں زندہ رہنے کی بے مثال اور معجز نما قوت موجود ہے۔ وہ مسلسل فاقوں کو آسانی سے برداشت کر سکتی ہے۔ سخت سے سخت چوٹ کو سہہ لیتی ہے۔ اسے خواہ کتنی ہی بلندی سے پھینک دیا جاۓ پھر بھی بچ جاتی ہے آگ کی شدت اور پانی کے طوفانوں میں سے بخریت گزر سکتی ہے۔ قدیم تصور کے مطابق بلی کو خدا نے نو زندگیاں دے کر اس زمین پر بھیجا ہے اور یہ حقیقت ہے کہ ماہرین علم حیوانات نے جب بلی کی جسمانی اور ذہنی قوت برداشت کا امتحان لیا تو انھیں بھی تسلیم کرنا پڑا کہ یہ جانور فوق الفطرت قوتوں کا مالک ہے۔

بلی کڑی سے کڑی سزا ہنس کھیل کر برداشت کر جاتی ہے۔ ابھی اس عجیب واقعے کو زیادہ عرصہ نہيں گزرا کہ امریکہ کی ریاست اوہیو کی ایک سفید بلی اینٹیں بنانے کے جہنم نما بھٹے میں اتفاقیہ طور پر بند ہو گئی اور جب چھتیں گنٹھے بعد بھٹہ کھولا گیا تو بلی زندہ سلامت باہر نکل آئی۔ قصہ یہ ہوا کہ جمعے کی رات کو اینٹیں بنانے والی میٹرو پولیٹن کمپنی کے ملازمین نے اچانک چھٹی کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ جتنی اینٹیں تیار کرنی تھیں وہ سب انھوں نے اس وسیع و عریض بھٹے میں بھریں اور اسے گرم کرنے کے بعد بند کر دیا۔ خدا جانے کس طرح وہ سفید بلی اس بھٹے میں بند ہو گئی۔ بھٹے کا اندرونی درجہ حرارت نو سو فارن ہیٹ کے قریب تھا۔ ذرا اس زبردست گرمی کا اندازہ کیجۓ اور دیکھۓ کہ وہ حقیر سی بلی دوزخ میں مسلسل ڈیڑھ دن بند رہی۔ اتوار کے روز جب بھٹہ کھولا گیا تو کمپنی کے ملازمین سخت متعجب ہوۓ کہ ایک بلی جس کی اوپر کی کھال جل کر سیاہ ہو چکی تھی اور منہ بری طرح جھلسا ہوا تھا آہستہ آہستہ اینٹوں کے انبار میں سے نکل کر باہر آ رہی تھی۔




Copyright © Bahoo.org 2008
14 Fortress Stadium, Lahore Cantt, Pakistan.
Ph: + 92 423 6623108