::*Urdu Books*::
::*Urdu Books*::
    Quick Search
 
Title Author Publisher
            Members Area
Username:
Password:
                                                                  Forget Password
Special Offer  
see all subjects
No Item in cart
Business & Technical > Dil Aur Khoon  
Book Detail
 
 
Dil Aur Khoon
دل اور خون 
Author/Translator: Khalid Javaid Jan 
Price: $ 4.48
Format: Soft Cover, 48Pages, Weight: 100 gm
Product-Id: 1005312
Publisher: Ferozsons

Productid:1005312  
Quantity:
 

 

تعارف

دل اور دوران خون جسم کے نقل و حمل کے اہم نظاموں میں سے ایک نظام ہے۔ دل ایک پمپ ہے جو خون کو، خون کی نالیوں کے ایک جال کے ذریعے تمام جسم میں دوڑاتا ہے۔

جب خون جسم میں گردش کرتا ہے تو یہ کئی اہم کام کرتا ہے۔ یہ جسم کے تقریبا تمام خلیوں میں زندگی بخش آکسیجن لے جاتا ہے اور جسم میں جو فضلات پیدا ہوتے ہیں، انھیں باہر نکالتا ہے۔ خلیوں کی نشوونما اور حفاظت کے لیے جو غذائی مواد درکار ہوتے ہیں، ہارمون اور مصلح اجسام کہلاتے ہیں۔ ہارمون کیمیائی پیغام رساں ہیں اور یہ جسم کے مختلف حصوں پر عمل کرتے ہیں۔ مصلح اجسام کیمیائی اشیاء ہیں جو بیماری سے لڑتی ہیں۔

ایک بالغ آدمی کے جسم کے پورے نظام میں 5-6 لٹر خون ہوتا ہے، جو جسم کے وزن کا تقریبا بارہواں حصہ ہے۔

خون نالیوں کے ایک بہت بڑے جال میں گردش کرتا ہے، جن میں کچھ بہت باریک ہوتی ہیں۔ اگر نظام خون کی تمام نالیوں کے سرے ملا دیے جائيں تو وہ 160000 کلو میٹر سے زیادہ لمبی ہوں گی۔

 

جسم کا نظام نقل و حمل

جسم کے کروڑوں زندہ خلیوں میں سے ہر ایک کو زندہ رہنے کے لیے آکسیجن اور خوراک کی ضرورت ہوتی ہے۔ جو خون مہیا کرتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ خون کو لازمی طور پر جسم کے ہر عضو میں پہنچنا چاہیے تا کہ ہر خلیہ اپنی ضرورت کے مطابق آکسیجن اور غذا حاصل کر سکے۔

بال جیسی باریک شاخ دار نالیوں کا ایک جال جس میں خون ہوتا ہے دماغ، جلد پٹھوں (عضلات) اور جسم کے تمام دوسرے اعضا میں پھیلا ہوتا ہے۔ یہ نالیاں عروق شعریہ کہلاتی ہیں اور صرف جسم کے غیر زندہ حصوں، جیسے انگلیوں کے ناخن اور بال، میں نہيں ہوتیں۔

عروق شعریہ کو خون کی بڑی نالیوں میں سے خون ملتا ہے جنھیں شریانیں کہتے ہيں، اور دوسری بڑی نالیوں میں ان کا نکاس ہوتا ہے جنھیں وریدیں کہتے ہيں۔ دل خون کو پورے جسم میں بھیجتا ہے۔ اس کا بہاؤ کبھی نہيں رکتا اور نہ یہ رستا ہے، سواۓ اس وقت جب ہم زخمی ہو جاتے ہیں۔

دوران خون کا نظام دو حصوں پر مشتمل ہوتا ہے۔ پہلے خون دل سے پمپ کر کے سارے جسم میں بھیجا جاتا ہے۔ اور دل کی طرف واپس لایا جاتا ہے۔ اس مرحلے پر آکسیجن خرچ ہو چکی ہوتی ہے اور فضلے مثلا کاربن ڈائی آکسائیڈ خون میں شامل ہو جاتے ہیں۔ لیکن اب جسم میں واپس جانے کی بجاۓ خون پھیپھڑوں کیطرف جاتا ہے جہاں اس میں آکسیجن دوبارہ شامل ہو جاتی ہے۔ اور کاربن ڈائی آکسائیڈ نکل جاتی ہے۔ پھر خون دل اور پورے جسم میں دوبارہ بھیجا جاتا ہے تا کہ وہی چکر پھر سے شروع ہو جاۓ۔




Copyright © Bahoo.org 2008
14 Fortress Stadium, Lahore Cantt, Pakistan.
Ph: + 92 423 6623108