::*Urdu Books*::
::*Urdu Books*::
    Quick Search
 
Title Author Publisher
            Members Area
Username:
Password:
                                                                  Forget Password
Special Offer  
see all subjects
No Item in cart
Religion > Ashaab e Rasool (S. A. W.) Aur Un Kay Karnamay (Hissa Awal)  
Book Detail
 
 
Ashaab e Rasool (S. A. W.) Aur Un Kay Karnamay (Hissa Awal)
اصحاب رسول اور ان کے کارنامے 
Author/Translator: Nabi Ahmed Suha 
Price: $ 11.49
Format: Hard Cover, 490Pages, Weight: 575 gm
Product-Id: 1005077
Publisher: Ferozsons

Productid:1005077  
Quantity:
 

 

دیباچہ

اللہ تبارک و تعالی نے اپنے بندوں کی ہدایت و رہنمائی کے لیے انبیاء کرام بھیجے، جنھوں نے علم سے محروم اور اخلاق سے عاری نوع بشر کے دونوں ہاتھوں میں علم و اخلاق کی شمعیں تھما دیں، تاریک و خوفناک راہوں کو روشن کر کے انسانیت کے قافلے ان پر چلا دیے پھر وہ ان کے ساتھ ساتھ چلتے رہے اور قافلے کو رہ و رسم سفر اور منزل و مقام بتاتے رہے۔ اس سفر پر رواں رہنے کے لیے لوگوں کو عمیق غاروں والی وادیاں طے کرنی پڑیں۔

ع  طے شود جادہ صد سالہ بہ آہے گاہے

مگر خط مستقیم پر چلتے ہوۓ، صعوبت راہ سے ان کے پیر کبھی نہیں ڈگمگاۓ۔ کیوں کہ ان راہ نوردوں نے اپنے مقصود، منزل اور راہ کو پا لیا تھا۔ یہ حقیقت ان کے دلوں میں بیٹھ چکی تھی کہ اس مقصود، منزل اور راستے کا کوئی متبادل نہيں۔ وہ اپنی آنکھوں سے دیکھتے تھے کہ ہماری شریک سفر کم ہیں اور دوسری راہیں قافلوں سے بھری پڑی ہیں۔ مگر ان پختہ فکر و راسخ عقیدہ رکھنے والوں کے دلوں میں کبھی یہ ہوک نہ اٹھی کہ جدھر سارے لوگ امڈے چلے جا رہے ہیں، ادھر بڑھیں اور ان کی رونقوں میں شامل ہو جائیں۔

پچھلی تاريخ گزر گئی، دنیا کے سٹیج پر اس کے کردار آۓ، اپنا کام کیا اور چلے گۓ۔ ابو البشر آدم سے ابن مریم تک یہی کچھ ہوتا رہا۔ مگر ہادی اور ہدایت یافتہ کسی ایک کا کردار بھی پورا پورا اور سچا سچا زمانے نے محفوظ نہيں رکھا۔ ایسا ہی ہونا چاہیے تھا۔ ٹھیک ہوا جو کچھ ہوا۔ اس لیے کہ ہادیوں اور ان کے حواریوں کی آمد کا سلسلہ جاری تھا۔

 

ابن مریم علیہ السلام کے بعد چھ صدیاں گزر گئيں۔ آخری ہادیۖ آ گیا۔ حق تک رسائی کا وہی فطری اور تاریخی راستہ اس کے پیروؤں کو بھی طے کرنا تھا۔ چنانچہ خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کا قافلہ بھی بلا پس و پیش راہ صداقت پر گامزن ہوا۔ قدم رکھنا تھا کہ زمین و آسمان دشمن ہو گۓ۔ اہل حق کے راستے میں آگ کے آلاؤ آۓ مگر منزل مراد کے جوش میں وہ اس میں کود پڑے اور پار ہو گۓ۔ ان کو کوڑے مارے گۓ، ان کو گرم ریت اور تپتے پتھروں کے درمیان دبایا گیا، دہکتے انگاروں پر لٹایا گیا، ایک ہزار دنوں تک شعب ابی طالب میں بھوکا پیاسا رکھا گیا، انھیں زندکی کی بنیادی ضرورتوں سے محروم کر کے، بیوی بچوں اور ماؤں اولادوں سے جذباتی تعلق توڑ کر، ان دیکھے لوگوں، ان دیکھے ماحول اور ان دیکھے ملک کی طرف جانے پر مجبور کیا گیا۔ مگر وہ یہ سب کچھ جھیل گۓ، خندہ پیشانی سے برداشت کر گۓ، اپنی سچائی کا ثبوت فراہم کر گۓ اور اس طرح قبول حق کی آزمائش میں پورے اترے۔

پھر اسلام کی دعوت نے دوسرے مرحلے میں قدم رکھا۔ اسلام کے علمبردار، کلمہ صداقت کے فدائی سب کجھ چھوڑ چھار، اپنے ہادیۖ کے حکم پر ہاتھ خالی یثرب پہنچے۔ انھیں تباہ و فنا کرنے کے لیے عرب کے مشرک قبائل، بنی اسرائیل اور منافقین نے گٹھ جوڑ کر لیا۔ حکم ہوا، وسائل کو نہ دیکھو، اپنی قلت کو نہ سوچو، ان سے بھڑ جاؤ، تمھاری فتح ہو گی۔ پس ان کے ایمان میں جوش و طوفان امڈ آیا۔ جب میدان میں پہنچے تو باپ بیٹے کے، بھائی بھائی کے بھتیجا چچا کے مقابلے پر تھا۔ حق و صداقت کے لیے کسی کی پروا نہ کی، لڑ گے اور اس طرح کہ اللہ کی رضا خریدنے کے لیے نقد جان نچھاور کر دی۔ یہ کوئی ایک مرتبہ ایک دن کا امتحان نہ تھا بلکہ اصحاب رسولۖ کی پوری زندگیوں پر دراز تھا۔




Copyright © Bahoo.org 2008
14 Fortress Stadium, Lahore Cantt, Pakistan.
Ph: + 92 423 6623108