::*Urdu Books*::
::*Urdu Books*::
    Quick Search
 
Title Author Publisher
            Members Area
Username:
Password:
                                                                  Forget Password
Special Offer  
see all subjects
No Item in cart
Sports > Sports > Cricket Kay Kawaneen  
Book Detail
 
 
Cricket Kay Kawaneen
کرکٹ کے قوانین 
Author/Translator: Saleem Asghar Mian 
Price: $ 7.16
Format: Soft Cover, 206Pages, Weight: 265 gm
Product-Id: 1005062
Publisher: Ferozsons

Productid:1005062  
Quantity:
 

 

پیش لفظ

کرکٹ کا کھیل تقریبا دو سو سال تک مختلف قوانین کے تحت کھیلا جاتا رہا، حتی کہ 1787ء میں ایم سی کو بنیادی طور پر ایک بااختیار اتھارٹی تسلیم کر لیا گیا۔ اور طے ہوا کہ کرکٹ کے قواعد و ضوابط یہی ادارہ مرتب کرے گا۔

کرکٹ کے قوانین سب سے پہلے 1744ء میں ان معززين نے وضع کیے جو لندن کے آرٹلری گراؤنڈ میں کرکٹ کھیلا کرتے تھے۔ ان قوانین پر 1755ء میں نظر ثانی کی گئی، اور اس کام میں جن کلبوں نے حصہ لیا ان میں سٹار کلب اور گارٹر کلب قابل ذکر ہیں۔ بعد ازاں 1774ء میں کنیٹ ہمپ شائر، سرے، سیکس، مڈل سیکس، اور لندن کے معززین نے ایک کمیٹی تشکیل دی جس نے ان قوانین کا جائزہ لیا۔ 1786ء میں اسی کمیٹی نے ان پر نظر ثانی کی۔ آخر 30 مئی 1788ء کو یہ قوانین نافذ ہوۓ اور 19 مئی 1835ء تک ان پر عمل درآمد ہوتا رہا، گو 21 اپریل 1884ء تک ان میں وقتا فوقتا ترامیم ہوئيں۔

اس کے بعد انگلینڈ اور کرکٹ کھیلنے والی دوسری قوموں نے ایم سی سی کی ایک خاص میٹنگ میں باہمی صلاح مشورے سے ان قوانین میں چند بنیادی تبدیلیاں کیں۔

1939ء تک ان قوانین میں بہت سے نوٹ اور تشریحات شامل تھیں۔ اس لیے یہ ضروری سمجھا گیا کہ ان کا بغور جائزہ لیا جاۓ۔ لہذا دوسری جنگ عظیم کے فورا بعد کرکٹ کھیلنے والی تمام قوموں کی بااختیار تنظیموں کو اپنے اپنے خیالات کے اظہار کے لیے کہا گیا، اور اس کے نتیجے میں، ایک خصوصی جنرل میٹنگ میں، 1947ء کے کرکٹ کے قوانین شائع کیے گۓ۔

 

ان قوانین اور نوٹس کو سمجھنے اور لاگو کرنے میں کئی پیچیدگیاں تھیں۔ لہذا 1972ء کی منعقدہ بین الاقوامی کرکٹ کانفرنس نے سفارش کی کہ چونکہ بہت سے نوٹس بذات خود قانون کا درجہ رکھتے ہیں، اس لیے انھیں قوانین میں شامل کر لیا جاۓ۔ نیز انھیں سادہ اور عام فہم زبان میں دوبارہ لکھا جاۓ۔

ایم سی سی نے اس مشورہ و سفارش کی روشنی میں 1974ء کے موسم خزاں میں کام شروع کیا اور کرکٹ کھیلنے والے تمام ملکوں سے راۓ لی۔ بالاخر یہ فیصلہ کیا گیا کہ چونکہ بنیادی طور پر قوانین کے نوٹس کے فوائد ختم ہو چکے ہیں، اور ان سے مشکلات بھی پیدا ہوتی ہیں۔ نیز بہت سے نوٹس بذات خود قانون کا درجہ رکھتے ہیں، لہذا ان سب کو قانون کا درجہ دیا جاۓ۔

چنانچہ 1980ء میں کرکٹ کا نیا ضابطہ لکھا گیا۔ 1947ء کے ضابطے میں 46 قوانین اور 106 نوٹس تھے، اور 1980ء کے ضابطے میں 42 قوانین ہیں جن کے تقریبا 182 حصے ہیں۔ اس نۓ ضابطے کی بڑی خوبی یہ ہے کہ تمام نوٹس، ترامیم اور تجرباتی قوانین کو مکمل قانون بنا دیا گیا ہے۔

کرکٹ کے قوانین کو اردو میں لکھنے کے خیال کا سبب چند ایک واقعات ہیں۔ مثلا ایک میچ کے دوران جب ایک بلے باز کو وائڈ بال پر سٹمپڈ آؤٹ قرار دیا گیا تو اس کے کپتان اور دوسرے ساتھیوں نے امپائر سے لڑنا شروع کر دیا۔ اسی طرح چند حضرات ایک بار مجھ سے ایک بلے باز کو ہینڈ لڈ دی بال آؤٹ قرار دیے جانے پر ناراض ہو گۓ۔ اس کی وجہ ان حضرات کی قوانین سے ناواقفیت تھی۔ چنانچہ میں نے اور سلیم اصغر میاں نے فیصلہ کیا کہ کرکٹ کے قوانین کو آسان اردو میں تحریر کیا جاۓ، نیز ان کی مزید وضاحت کی جاۓ اور آخر میں سوال و جواب بھی دیے جائيں تا کہ انھیں سمجھنے میں کسی قسم کا شک و شبہ باقی نہ رہے۔

ہمارے اس خیال کو عملی جامہ پہنانے میں جناب بریگیڈیر (ریٹائرڈ) عبد الحمید صاحب (ڈائریکٹر جنرل پاکستان سپورٹس بورڈ) اور جناب کرنل (ریٹائرڈ) رفیع نسیم صاحب (آنریری سیکرٹری آف دی بورڈ آف کنٹرول فار کرکٹ ان پاکستان) نے ہماری بڑی حوصلہ افزائی کی، جس کے لیے ہم ان کے تہ دل سے شکر گزار ہیں۔




Copyright © Bahoo.org 2008
14 Fortress Stadium, Lahore Cantt, Pakistan.
Ph: + 92 423 6623108