::*Urdu Books*::
::*Urdu Books*::
    Quick Search
 
Title Author Publisher
            Members Area
Username:
Password:
                                                                  Forget Password
Special Offer  
see all subjects
No Item in cart
Art & Literature > Ajeeb Larki  
Book Detail
 
 
Ajeeb Larki
عجیب لڑکی 
Author/Translator: Mussarat Paracha 
Price: $ 3.99
Format: Soft Cover, 88Pages, Weight: 100 gm
Product-Id: 1005015
Publisher: Ferozsons
Publish date: 1988, 1st Edition
Productid:1005015  
Quantity:
 

 

"احمق اس وقت کا"

انگلستان کو یہ میری تیسری روانگی تھی۔ پہلی بار علالت کے چکر میں گئی۔ تنہا اور عجیب کیفیت تھی۔ انجانے دیس میں انجانی دونوں ٹانگوں سے مفلوج لڑکی کا تنہا روانہ ہونا گھر والوں سے لے کر باہر والوں تک ایک مسئلہ ہوا تھا۔ جو وہیل چئیر سے اٹھ کر لمحہ بھر کے لۓ اپنے قدموں پر کھڑی ہونے کی استطاعت نہ رکھتی ہو۔ وہ تنہا سات سمندر پار دیار غیر کو سدھار رہی تھی۔ بس اسی سوچ نے سب کو پریشان کر رکھا تھا اور حیران یوں کہ میں بہت ہی مطمئن تھی۔ روانگی سے چھ روز قبل میں نے اپنی چوٹی خود گوندھنی شروع کر دی تھی۔ اکثریت کا مشورہ تھا کہ بال کٹوا دوں۔ وہاں کے ہسپتال میں نرسوں کے پاس اتنا وقت نہيں ہو گا کہ تمہاری چوٹی گوندھنے بیٹھیں گی۔ بات صحیح تھی معقول مشورہ تھا۔ لیکن میرا ابھی اپنا مسئلہ تھا مجھے اپنے لمبے بالوں بھاری چوٹی سے اتنا والہانہ پیار تھا جتنا اپنے اپاہج پن سے۔

فیشن کے مارے کٹوا ڈالتی تو اور بات تھی لیکن معذوری کے ہاتھوں اپنے جمال کی تنسیخ یہ میری زندگی ناممکن تھا۔ باقی ہر ناممکن بات بھی ممکن ہو سکتی تھی۔ ایک سرشار کر دینے والی قوت ارادی سینے میں کروٹیں لیتی رہتی اور یوں مجھے باہمت پا کر میرے والد کی ہمت ایک مضبوط گانٹھ کی طرح بندھ گئی۔ میری خود اعتمادی پر انہیں بھروسہ کرنا ہی پڑا۔ آہ! میری ماں ان دنوں بے چین تھیں۔ جس روز مجھے روانہ ہونا تھا۔ ہمارے ہاں میرے چاہنے والوں کا تانتا بندھا ہوا تھا۔ اور میری ماں کی چاند جیسی پیشانی پر موتی ابھر رہے تھے۔

 

یہ سفر نامہ لکھنے بیٹھی ہوں تو پرانے سفر کے دریچے کھل گے ہیں۔ 1967ء کے اس سفر کے متحرک ساۓ مجھے اکسا رہے ہيں۔ کہ پہلے میں آپ کو ان سے آشنائی کا موقع دوں اور سچ تو یہ ہے کہ مجھے اپنی کج نگاہی پر افسوس ہو رہا ہے۔ میں نے اپنے اس پھیکے سفر سے وہی سلوک کیا جو اکثر مائين اپنے اپاہج بچوں سے کرتی ہیں۔

سو اب میں اپنے سفر نامے کی پہلی قسط پہلے سفر کے واقعات کی جھلکیوں سے مزین کر رہی ہوں۔

جہاز نے پر تولے میں نے سکون کی گہری سانس لیتے ہوۓ سر سیٹ کی پشت پر ٹکا دیا اور عجیب اطمینان سے آنے والے وقت کی سوچوں میں ڈوب گئی۔ اجنبی جگہ ہو گی اجنبی مسافر!

نہ مجھ سے کسی کو واسطہ ہو گا نہ مجھے کسی سے سروکار۔ نہ اپنوں کی محبتوں کے پھندے ہوں گے نہ غیروں کی ہمدردی اور توجہ کے تیر۔

اسی زہر کو اپنی روح میں سرایت ہونے کے امکانات محسوس کرتے ہی تو میں نے اپنی بیماری اپنی ریڑھ کی ہڈی کے درد کو موجودہ مہنگائی کی طرح یکدم بڑھا کر اپنوں سے غیروں سے فرار کی راہ نکالی تھی۔ اپنے وجود کی کمزوریوں کی گٹھڑی نازک سے دل ناداں کے ساتھ چمٹاۓ یوں تن تنہا نکلی تھی۔ ذہنی سکون کے لۓ انسان کیا کچھ تج دیتا ہے۔ میں نے بھی اتنی بڑی جرات کتنے جوش اور خود اعتمادی کے ولولے سے کی تھی۔

پی آئی اے کی دو عدد نازنینیں اٹکھیلیاں کرتی ہوئی سویٹس مشروبات اور چاۓ کافی کے ساتھ خوش آمدید کہتی ہوئی مسکراہٹیں بانٹتی ہوئی کتنی بھلی لگ رہی تھیں۔

bahoo.org
29254 12th PL S
Federal Way, WA 98003 USA
Ph: + 1 212-380-1673
Copyright © Bahoo.org 2008
14 Fortress Stadium, Lahore Cantt, Pakistan.
Ph: + 92 42 6650250