::*Urdu Books*::
::*Urdu Books*::
    Quick Search
 
Title Author Publisher
            Members Area
Username:
Password:
                                                                  Forget Password
Special Offer  
see all subjects
No Item in cart
Religion > Khulfa O Sahaba > Qasas Ul Anmbia  
Book Detail
 
 
Qasas Ul Anmbia
قصص الانبیاء علیہم السلام 
Author/Translator: Muhammad Islam 
Price: $ 3.99
Format: Soft Cover, 311Pages, Weight: 400 gm
Product-Id: 1004613
Publisher: Contrast Printers And Publishers
Publish date: 2000, 1sy Edition
Productid:1004613  
Quantity:
 

 

حضرت آدم علیہ السلام

قرآن عزیز میں انبیاء علیہم السلام کے تذکروں میں سب سے پہلا تذکرہ ابو البشر حضرت آدم علیہ السلام کا ہے۔

پیدائش آدم، فرشتوں کو سجدہ کا حکم شیطان کا انکار

اللہ تعالی نے حضرت آدم کو مٹی سے پیدا کیا، او ران کا خمیر تیار ہونے س ے قبل ہی اس نے فرشتوں کو یہ اطلاع دی کہ عنقریب وہ مٹی سے ایک مخلوق پیدا کرنے والا ہے جو بشر کہلاۓ گی۔ اور زمین میں ہماری خلافت کا شرف حاصل کرے گی۔ آدمی کا خمیر مٹی سے گوند گيا اور ایسی مٹی سے گوندھا گيا جو نت نئی تبدیلی قبول کر لینے والی تھی، جب یہ مٹی پختہ ٹھکری کی طرح آواز دینے اور کھنکھنانے لگي تو اللہ تعالی نے اس جسد خاکی میں روح پھونکی اور وہ یک بیک گوشت پوست ، ہڈی ، پٹھے کا زندہ انسان بن گيا اور ارادہ ، شعور، حس، عقل اور وجدانی جذبات و کیفیات کا حامل نظر آنے لگا۔ تب فرش توں کو حکم ہوا کہ تم اس کے سامنے سربسجود ہو جاؤ فورا تمام فرشتوں نے تعمیل ارشاد کی مگر ابلیس نے غرور و تمکنت کے ساتھ صاف انکار کر دیا۔

 

شیطان کا مقصد یہ تھا کہ میں آدم سے افضل ہوں، اس لیۓ کہ تونے مجھ کو آک سے بنایا ہے اور آگ بلندی و رفعت چاہتی ہے اور آدمی مخلوق خاکی ، بھلا خاک کو آگ سے کیانسبت ؟ اے خدا1 پھر یہ تیرا حکم کہ ناری ، خاکی کو سجدہ کرے کیا انصاف پر مبنی ہے؟ میں ہر حالت میں آدم سے بہتر ہوں اور لہذا وہ مجھے سجدہ کرے نہ کہ میں اس کے سامنے سربسجود ہوں۔ مگر بدبخت شیطان اپنے غرور و تکبر میں یہ بھول گيا کہ جب تو اور آدم دونوں خدا کی مخلوق ہو ، تو مخلوق کی حقیقت خالق سے بہتر خود وہ مخلوق بھی نہیں جان سکتی وہ اپنی تمکنت اور گھمنڈ میں یہ سمجھنے سے قاصر رہا کہ مرتبہ کی بلندی و پستی اس مادہ کی بنا پر نہیں ہے جس سے کسی مخلوق کا خمیر تیا کیا گيا ہے بلکہ اس کی ان صفات پر ہے جو خالق کائنات نے اس کے اندر و دیعت کی ہیں۔ بہرحال شیطان کا جواب چونکہ غرور و تکبر کی جہالت پر مبنی تھا اس لیے اللہ تعالی نے اس پر واضح کر دیا کہ جہالت سے پیدا شدہ کبر و نخوت نے تجھ کو اس قدر اندھا کر دیا ہے کہ تو اپنے خالق کے حقوق اور احترام خالصیت سے بھی منکر ہو گیا اس لیے مجھ کو ظالم قرار دیا اور یہ نہ سجمھا کہ تیری جہالت نے تجھ کو حقیقت کو سمجھنے سے درماندہ و عاجز بنا دیا ہے پس تو اب اس سر کشی کی وجہ س ے ابدی ہلاکت کا مستحق ہے اور یہی تیرے عمل کی قدرتی پاداش ہے۔

ابلیس کی طلب مہلت: ابیلس نے جب دیکھا کہ خآلق کائنات کے حکم کی خلاف ورزی تکبر و رعونت اور خداۓ تعالی پر ظلم کے الزام نے ہمیشہ کے لیے مجھ کو رب العلمین کی آغوش رحمت سے مردود اور جنت سے محروم کر دیا، تو توبہ اور ندامت کی جگہ اللہ تعالی سے یہ استدعا کی کہ تاقیام قیامت مجھ کو مہلت عطا کر اور اس طویل مدت کے لیے میری زندگی کی رسی کو دراز کر دے حکمت الہی کا تقاضا بھی یہی تھا، لہذا اس کی درخواست منظور کر لی گئی یہ سن کر اب اس نے پھر ایک مرتبہ اپنی شیطنت کا مظاہرہ کیا ، کہنے لگا! جب تو نے مجھ کو راندہ درگاہ کر ہی دیا تو جس آدمی کی بدولت مجھے یہ رسوآئی نصیب ہوئی میں بھی آدم کی اولاد کی راہ مارو نگا اور ان کے پس و پیش اردگرد اور چہار جانب سے ہو کر ان کو گمراہ کروں گا۔




Copyright © Bahoo.org 2008
14 Fortress Stadium, Lahore Cantt, Pakistan.
Ph: + 92 423 6623108