::*Urdu Books*::
::*Urdu Books*::
    Quick Search
 
Title Author Publisher
            Members Area
Username:
Password:
                                                                  Forget Password
Special Offer  
see all subjects
No Item in cart
Religion > Hinduism > Armughan e Waaid  
Book Detail
 
 
Armughan e Waaid
ارمغان وید 
Author/Translator: Abd Ur Rehman Siddiqui 
Price: $ 3.99
Format: Hard Cover, 208Pages, Weight: 310 gm
Product-Id: 1003650
Publisher: Dar Ul Tazkeer
Publish date: 2000
Productid:1003650  
Quantity:
 

 

بسم اللہ الرحمن الرحیم

پیشکش

والت رجوم جناب عبدالرحمان صاحب صدیقی المتخلص آزاد فتحپوری حیدر آباد دکن میں بہ سلسلہ ملازمت تقریبا تیس سال رہے جن میں سے کوئی بیس سال ایک ہندو ریاست میں بحیثت مشیرو منتظم کے گزار دیۓ ۔

وہاں کے قیام میں انہیں ہندو معاشرے کا قریب سے مطالعہ کرنے کا موقع ملا اور ہندو مذہب کی بہت سی کتابوں سے جو وہاں دستیاب تھیں استفادہ کر کے ان پر تنقید کا خیال پیدا ہوا ۔ چنانچہ ایک بڑی صخیم کتاب تیار کی جس کا نام ارمغان وید و شاستر " رکھا۔ اس میں برہمنوں کے کیداور پجاریوں کی غیر فطری زندگی پر سیر حاصل بحث کی تھی اور بتلایا تھا کہ برہمنوں نے اقلیت میں ہوتے ہوۓ کس طرح عوام و خواص بلکہ حکومتوں کو اپنے تابع فرمان رکھا ہے۔

مگر جب وہ مسودہ ریاست حیدر آباد کے ارباب اقتدار کے سامنے پیش کیا گیا تو جواب ملا کہ حکومت مغلیہ اپنی روایات کی وجہ سے مجبور ہے وہ اپنی ہندو رعایا کی دل آزادی نہیں کرنا چاہتی اور یہ سچ تھا ہندوستان کے مسلمان بادشاہ اپنی وسیع النظر؛ کور روا داری کے لۓ مشہور رہے ہیں ۔ خاص کر سلاطین مغلیہ جو بیشتر ہندو خواتین کے بطن سے تھے اور آخری تاجدار کن بھی ان میں شامل تھے اسی لۓ ریاست میں گاۓ کی قربانی ممنوع تھی۔ عید بقر عید محرم کے ساتھ ہولی دیوالی اور دسہر کے تیو ہار سرکاری طور پر مناۓ جاتے تھے پھر ابو جان وظیفے پر ہٹ گۓ اور ان کی امدنی طباعت و اشاعت کی متحمل نہ ہو سکی تو وہ غیور اور خود دار ہوتے ہوۓ بھی مختلف نوابوں ، جاگیر داروں اور ناشروں کے پاس اپنا مسودہ لۓ گھومتے رہے اور ہر جگہ سے جواب ملا کہ اس کتاب کی اشاعت سے ہندو مسلم تعلقات خراب تھے۔ ہندو عوام عرصے سے ریاست کے بھارت سے الحاق یا اس میں ضم کردینے کی جان توڑ کوشش کر رہے تھے بس مسلمانوں کو خبر نہ تھی اور جنہین تھی وہ آنکھ بند کر کے بیٹھے رہنا چاہتے تھے ۔

 

جب کسی قوم پر ادبار آنیوالا ہوتا ہے تو وہ سوچنے سمجھنے اور عمل کرنے  سے انکار کر دیتی ہے چنانچہ زیادہ دن نہیں گزرے تھے کہ 17 ستمبر 1948ء کا دن دیکھنا پڑ گیا ریاست کا سقوط ہو گیاا اور تقریبا 5 لاکھ مسلمان بیدردی سے قتل کر دیۓ گۓ ہم لوگ جو باہر سے جا کر وہاں بسے تھے بھاگنے کیلۓ پر تولنے لگے مگر ابو جان نے حیدر آباد چھوڑنے سے انکار کر دیا کہنے لگے میرا کام ابھی ختم نہیں ہوا ہے میں یہ کتاب شائع کر کے سارے ہندوستان میں تقسیم کرنے کے بعد ہی یہاں سے نکل سکتا ہوں۔

لوگ سر زمین پاکستان میں قدم جمانے کے لۓ نکل آۓ اور ہ اپنی کتاب کی اشاعت کے لۓ دوڑ دھوپ میں لگے رہے ۔ مگر شاید جلدی ہی ہمت ہار بیٹھے ۔ دو ماہ بعد اطلاع آئی کہ 26 جولائی 1949ء مطابق 29 رمضان 1368ء کو وہ دل شکستہ اور مایوس اس دار فانی کو الوداع کہہ گۓ۔

انا للہ وانا الیہ راجعون

اس کے مسودات کا بستہ عموجان مرحوم کے ساتھ آیا مگر یہاں سب ان کے مسودات کا بستہ عمو جان مرحوم کے ساتھ آیا مگر یہاں سب روٹی ، کپڑے اور مکان کے چکر میں لگے ہوۓ تھے اور بظاہر یہاں ہندوؤں کے اثرات کو محسوس کرنے کی ضرورت نہ تھی۔ حتی کہ مشرقی پاکستان کے بحران سے پتہ چلا کہ ہندو بنیوں اور برہمنوں نے اپنی ریشہ دوانیوں سے ایک بار پھر مسلمانوں میں پھوٹ ڈال دی ہے بلکہ معلوم ہوا کہ بنگالیوں کے ساتھ ہمارے سندھی بھائیوں کو بھی لسانی جھگڑے میں ملوث کرنیوالے یہی ہندو بنیۓ تھے مگر یہ اس وقت معلوم ہوا جب قائداعظم کے پاکستان کا کریا کرم ہو گیا۔

اکتوبر 1971ء میں ملازمت سے سبکدوش ہوا تو مجھے موقع ملا کہ ابو جان کے مسودے تلاش کروں اور دیکھوں کہ وہ ہندو قوم کی کن باتوں سے خائف تھے جو عمر کا بڑا حصہ ان کے مذہب پر تحقیق میں ضائع کیا۔ ان کا مسودہ یقینا معلومات کا ایک خزانہ تھا مگر پاکستان کے مسلمانوں اتنی فرصت کہاں ہے جو صہ ہندوؤں کے رسم و رواج اور مذہبی عقائد کے مطالعہ میں صرف کریں ۔ یہ بیچارے خود اپنے دین و مذہب سے لاتعلق ہیں کوئی سوشلزم کا علمبردار ہے اور کوئی حسینیت کا اور دوسرے روٹی ، کپٹرے اور مکان کی تلاش میں سرگرداں ہیں چند ایک بینک بیلنس بڑھانے اور حویلیاں تعمیر کرنے میں لگے ہوۓ ہیں اور بھول گۓ ہیں کہ کبھی مسلمانوں کے دستر خوان پر لکھا ہوتا تھا۔

آگاہ اپنی موت سے کوئی بشر نہیں

سامان سو برس کے ہین پل کی خبر نہیں۔

اس مسودے کو پڑھنے سے پتہ چلا کہ ابو جان نے ہندو مذہب کے باطل عقائد پیش کر کے ان کی اصلاح کے طور پر صحیح عقائد کی نشان دہی نہیں کی شاید اس لۓ کہ وہ غیر جانبدار رہنا چاہتے تھے انہوں نے ایسے عقائد بھی معترضانہ پیش حلول، تناسخ اور فاتحہ درود وغیرہ۔

 دین اسلام عرب سے نکل کر کوفہ و بغداد کے عجمی مجوسیوں یہودیوں اور آریاؤں کے ہاتھوں میں آیا تو انہوں نے اپنے قدیم عقائد عربی زبان میں منتقل کر کے مسانید و صحاح کے نام سے داخل اسلام کر دیۓ جو ان نو مسلموں کے لۓ قابل قبول تھے اور جن سے وہ مانوس تھے اسی کا نتیجہ ہے کہ آج ہمارے سندھ کے ایک محترم بزرگ جناب جی ایم سید صاحب بھی یہ فرمانے کی جرات کرتے ہیں کہ عکب غاصب اورلیڑے تھے۔ وہ اپنے دور وحشت ےک عقائد لیکر آۓ اور انہیں ساری دنیا میں بزورشمشیر جاری و ساری کر دیا۔




Copyright © Bahoo.org 2008
14 Fortress Stadium, Lahore Cantt, Pakistan.
Ph: + 92 423 6623108