::*Urdu Books*::
::*Urdu Books*::
    Quick Search
 
Title Author Publisher
            Members Area
Username:
Password:
                                                                  Forget Password
Special Offer  
see all subjects
No Item in cart
Religion > Hinduism > Ghair Saami Mazahib Kay Bani  
Book Detail
 
 
Ghair Saami Mazahib Kay Bani
غیر سامی مزاہب کے بانی 
Author/Translator: Altaf Javaid 
Price: $ 6.00
Format: Hard Cover, 263Pages, Weight: 410 gm
Product-Id: 1003537
Publisher: Apna Idara
Publish date: 2003
Productid:1003537  
Quantity:
 

 

پیش لفظ

میں نے آریہ قوم اور زرد اقوام وغیرہ ميں جو بانیان مذاہب ہوۓ ہيں ان کے حالات اور تعلیم پر لکھا ہے۔ قرآن حکیم میں صرف سامی قوم سے تعلق رکھنے والے انبیاء کا ذکر ہے۔ لیکن قرآن نے کہا ہے کہ خدا نے ہر قریہ میں اپنا پیغامبر بھیجا ہے، مگر مسلمان علماء اور دانشوروں نے عملا قریہ کو صرف عرب اور فلسطین تک محدود کر دیا۔ حالانکہ ہندوستان یونان ایران چین وغیرہ کے وسیع خطے اور ان میں بسنے والے کروڑ ہا انسان موجود ہیں تو کیا ان کے اندر کوئی پیغامبر مبعوث نہيں ہوا؟ کیا قریہ کے الفاظ کا اطلاق ان ممالک اوراقوام پر نہیں ہوتا؟

قرآن کے الفاظ یہ ہیں۔

کوئی بستی یا امت ایسی نہیں جس میں ڈرانے والا نہ بھیجا گیا ہو۔

ہر امت یا قوم کے لے رسول ہے

تو کیا ہندوستان چین یونان ایران وغیرہ اقوام میں ہادی نہيں آۓ؟ کیا ان کو تسلیم نہ کرنا خلاف حکم قرآن نہيں۔

قرآن نے یہ بھی کہا ہے کہ تمام انسان نفس واحد سے پیدا کۓ گۓ ہيں ۔

 

اۓ لوگو ! اپنے رب کا تقوی اختیار کرو جس نے تم کو ایک ہی اصل سے پیدا کیا ہے اور اسی سے اس کا جوڑا پیدا کیا اور دونوں سے بہت سے مرد اور عورتیں پھیلاۓ۔

قرآن نے اس آیت مطہرہ میں وحدت انسانیت کا نظریہ پیش کیا ہے وحدت قائم ہی نہیں ہو سکتی اگر تمام اقوام میں مبعوث ہونے والے انبیاء کو تسلیم نہ کیا جاۓ۔

قرآن نے کہا ہے کہ وحدت انسانیت کو نہ ماننے والوں کے لۓ عذاب عظیم ہے۔

اور ان کی طرح نہ ہو جاؤ جنہوں نے تفرقہ کیا اور اختلاف کیا۔ اس کے بعد کہ ان کے پاس کھلی باتیں آچـکی تھیں اور انہی کے لۓ بڑا عزاب ہے۔

وحدت انسانیت کے قیام کے لۓ محد عربیۖ کے بعد نبوت ختم کر دی گئی اور رسول ۖ کو ساری انسانیت کی طرف بھیجا گیا۔

اور ہم نے تجھے تمام قوموں کے لیے خوشخبری دینے والا اور ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے۔ لیکن اکثر لوگ نہيں جانتے۔

کہہ دو لوگو میں تم سب کی طرف اللہ کا رسول ہوں وہ جس کے لۓ آسمانوں اور زمین کی بادشاہت ہے۔

اور ہم نے تجھے تمام لوگوں کی طرف رحمت بنا کر بھیجا ہے۔

ہر نبی اپنی خاص قوم کی طرف بھیجا گیا تھا اور میں تمام سرخ و سیاہ قوموں کی طرف بھیجا گیا ہوں۔

ان سے معلوم ہوتا ہے کہ بعثت محمد ۖ عالمگیر ہے۔ اس لۓ ان کے بعد کوئی نبی یا رسول نہيں آۓ گا وگرنہ عالمگیر بعثت ميں فرق آجاۓ گا۔

تو کیا ان وسیع خطوں میں بسنے والی اقوام کی طرف رسول اللہ ۖ کی بعثت کا معنی ہی یہ ہے کہ ان خطوں میں بسنے والی اقوام میں مبعوث ہونے والے انبیاء کو تسلیم کیا جاۓ جیسا کہ مزکورہ حدیث مطہرہ میں بیان کیا گیا ہے۔

قرآن نے کہا ہے۔

اس نے تمہارے لۓ دین کا وہی راستہ مقرر کیا ہے جس کا نوح کو حکم دیا تھا اور جو ہم نے تیری طرف وحی کیا اور جس کا ہم نے ابراہیم و موسی عیسی کو حکم دیا تھا کہ دین کو قائم رکھو اس میں تفرقہ نہ ڈالو۔ مشرکوں پہ وہ دین گراں ہے جس کی طرف تم ان کو بلاتے ہو۔ اللہ اپنے لۓ جسے چاہتا ہے چن لیتا ہے اور اسے اپنی طرف ہدایات دیتا ہے اس کی طرف رجوع کرتا ہے۔

اسی وحدت دین کے تصور کو دوسری جگہ بیان کیا گيا ہے۔

کہہ اۓ اہل کتاب اس بات کی طرف آؤ جو ہمارے درمیان اور تمہارے درمیان یکساں ہے کہ ہم اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کریں اور نہ اس کے ساتھ کسی کو شریک کریں اور نہ ہم میں سے کوئی کسی کو اللہ کے سواۓ رب بناۓ۔ اور اگر وہ پھر جائیں تو تم کہو گواہ رہنا کہ ہم فرماں برداد ہيں۔

اگر تمام مذاہب عالم کا بنظر غائر مطالعہ کیا جاۓ تو یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہو جاتی ہے کہ ذات باری تعالی کا عقیدہ تمام مذاہب میں امر مشترک ہے۔ قرآن کہتا ہے کہ

اور تجھ سے پہلے ہم نے کوئی رسول نہیں بھیجا مگر اس کی طرف ہم وحی کرتے تھے کہ میر ےسوا کوئی معبود نہيں سو میرے عبادت کرو۔




Copyright © Bahoo.org 2008
14 Fortress Stadium, Lahore Cantt, Pakistan.
Ph: + 92 423 6623108