::*Urdu Books*::
::*Urdu Books*::
    Quick Search
 
Title Author Publisher
            Members Area
Username:
Password:
                                                                  Forget Password
Special Offer  
see all subjects
No Item in cart
School & Education > Arabi Seekhiyee  
Book Detail
 
 
Arabi Seekhiyee
عربی سیکھۓ 
Author/Translator: Muhammad Shareef Kyani 
Price: $ 3.99
Format: Soft Cover, 176Pages, Weight: 200 gm
Product-Id: 1002305
Publisher: Rabia Book House

Productid:1002305  
Quantity:
 

 

تذکیر و تانیث

جنس کے اعتبار سے اسم دو قسم کا ھوتا ہے۔

1- مذکر جیسے رجل ( مرد) زيد ( زید) اور اخ ( بھائی)

2- مونث جیسے امراﺓ ( عورت) اخت ( بہن) اور دجاجۃ ( مرغی)

نوٹ: (ا) عربی زبان کے جس لفظ کے آخر میں تے ( ت تہ ﺓ) لگی ھو وہ عام طور پر مونث ھوتا ہے۔ مثلا بنت ( بیٹی) دراجۃ ( سائیکل) جامعۃ ( یونیورسٹی) بقرﺓ ( گاۓ) مومنۃ (مومن عورت) اور کافرﺓ ( کافر عورت) وغیرہ وغیرہ۔

(ب) مونث کی ایک پہچان یہ بھی ہے کہ اس کے آخر میں الف مقصورہ ھوتا ہے۔ جیسے: صغری کبری وغیرہ ۔ بعض اسموں میں بظاہر مونث کی کوئی علامت نہیں پائی جاتی، تاہم مونث ھوتے ہیں جیسے زینت مریم وغیرہ

(د) جس لفظ کے آخر میں کسی قسم کی تے نہ ھو وہ عموما مذکر ھوتا ہے مثلا: حجر ( پتھر) ورق( پتہ) خیاط ( درزی) اخ ( بھائی) وغیرہ

 

اسماۓ اشارہ

اسم اشارہ وہ کلمہ ہے جس سے کسی خاص آدمی چیز یا شے کی طرف اشارہ کیا جاۓ۔ جس شے کی اشارہ کیا جاۓ اسے مشار الیہ کہتے ہیں۔ عربی میں اس کے لیے ھذا ھذہ ذالک اور تلک استعمال کیے جاتے ہیں۔

اسم اشارہ کی دو قسمیں ہیں:

1- اسم اشارہ قریب 2- اسم اشارہ بعید

ھذا – ذالک

کسی بے جان یا مذکر شے کی طرف نزدیک کا اشارہ کرنا ھو تو ھذا استعمال کرتے ہیں جیسے ھذا الرجل ( یہ آدمی ہے) ھذا کتاب ( یہ کتاب ہے)  لیکن اگر مشار الیہ دور ھو اور مذکر بھی ھو تو پھر ذالک استعمال ھو گا جیسے: ذالک الکتاب ( وہ کتاب) ذالک قلم ( وہ قلم)

 ھذا – تلک

کسی مونث چيز کی طرف نزدیک کے اشارے کے لیے ھذا استعمال ھوتا ہے جیسے ھذہ کراسۃ ( یہ کاپی ہے) ھذا دراجۃ ( یہ سائیکل ہے) مونث کے لے دور کا اشارہ کرنا ھو تو پھر تلک استعمال کرتے ہیں۔




Copyright © Bahoo.org 2008
14 Fortress Stadium, Lahore Cantt, Pakistan.
Ph: + 92 423 6623108