::*Urdu Books*::
::*Urdu Books*::
    Quick Search
 
Title Author Publisher
            Members Area
Username:
Password:
                                                                  Forget Password
Special Offer  
see all subjects
No Item in cart
School & Education > Allama Iqbal Ka Nazriya e Taleem  
Book Detail
 
 
Allama Iqbal Ka Nazriya e Taleem
علامہ اقبال کا نظریہ تعلیم  
Author/Translator: Muhammad Habib Ud Din Ahmed 
Price: $ 3.99
Format: Soft Cover, 80Pages, Weight: 100 gm
Product-Id: 1001406
Publisher: Al Qamar Enterprises

Productid:1001406  
Quantity:
 

 

دیباچہ

یہ ایک امر واقعی ہے کہ علامہ اقبال کی شخصیت اور ان کی فکر و فن پر متعدد اہم کتابیں منظر عام پر آ چکی ہیں۔ مثلا آثار اقبال، آئینہ اقبال، باقیات اقبال، ذکر اقبال، روح اقبال، اقبال کامل، فکر اقبال، فلسفہ اقبال، نقوش اقبال، مقامات اقبال،اقبال کا فلسفہ خودی، اقبال شخصیت اور شاعری، اقبال اور مودودی کا تقابلی مطالعہ جیسی بے شمار کتابیں اردو زبان اور اس کے علاوہ دیگر زبانوں میں بھی لکھی گئ ہیں جن میں اقبال کو بہ حیثیت شاعر، فلسفی اور مفکر کے پیش کیا گیا ہے۔ اس طرح مختلف موضوعات پر ان کے افکار و نظریات کا شرح و بسط کے ساتھ جائزہ لیا گيا ہے لیکن علامہ اقبال کے تعلیمی نظریات یا فلسفہ تعلیم کے متعلق کتب و مقالات کی شکل میں اب تک جو کچھ لکھا گیا ہے اس میں درس و تدریس، تعلیم و تعلم یا طلبہ و مدارس سے متعلق مسائل سے بحث کرنے کے بجاۓ عام طور پر وہی باتیں دہرائی گئی ہیں جو اقبال کے فکر و فن یا فلسفہ خودی و بے خودی، یا تصور فردو جماعت کی روشنی میں ان کو ایک بزرگ مفکر یا عظیم شاعر ثابت کرنے کے لیے کہی جاتی ہیں۔ حالاں کہ ان باتوں کا تعلق تعلیم کے اصل مسائل سے نہیں۔ بلکہ تعلیم کے اس عام مفہوم سے ہے جس کو ہر بزرگ اور صاحب نظر فلسفی یا شاعر کا پیغام یا درس حیات محیط ھوتا ہے۔ اقبال نے اپنی شاعری اور خطبات میں انسانی زندگی اور بالخصوص حیات ملی پر اثر انداز ھونے والے محرکات اور اسباب و علل پر کسی نہ کسی انداز میں روشنی ڈالی ہے۔ لہذا ممکن تھا کہ نظام تعلیم اور تعلیمی ادارے سے متعلق اہم مسائل کو جو کسی ملت کی زندگی کے اہم مسائل ھوتے ہیں اقبال نظر انداز کر جاتے۔ چناں چہ ہم دیکھتے ہیں کہ ان کی اردو فارسی شاعری اور نثری مجموعوں میں تعلیمات کے موضوع پر ان کے افکار جگہ جگہ ملتے ہیں۔ اہل قلم حضرات نے جہاں ان کے فکر و نظریہ پر تفصیلی بحث کی ہے وہاں انھوں نے اس موضوع پر بھی اظہار خیال کیا ہے لیکن وہ اس سے سر سری طور پر گذر گۓ ہیں۔ میری دانست میں اس موضوع پر کوئی مستقل تصنیف نہیں ہے جس میں اس موضوع کے تمام پہلوؤں کا احاطہ کیا گیا ھو۔ موضوع کی اہمیت متقاضی تھی کہ اس سمت میں بھی کوشش کی جاۓ۔ یہ اوراق جو اس وقت پیش خدمت ہیں وہ اسی کوشش کا نتیجہ ہیں۔

 

اقبال کو مفکر یا ماہر تعلیم کہنا مناسب نہیں معلوم ھوتا، اس لیے بقول قاضی احمد میاں اختر جونا گڑھی، اقبال نہ تو فن تعلیم کے ماہر تھے نہ انھوں نے اس فن کی تحصیل کی تھی اور نہ اس موضوع پر انھوں نے کوئی کتاب لکھی۔ البتہ کچھ مدت تک بہ حیثیت پروفیسر انھوں نے کالج میں درس ضرور دیۓ ہیں، کوئی مستقل تعلیمی فلسفہ انھوں نے پیش نہیں کیا۔ لیکن اس کے باوجود اقبال کے تعلیمی افکار سے کلیتہ صرف نہیں کیا جا سکتا۔ اس میں شبہ نہيں ہے اقبال نے تعلیم کی فنی اور عملی پہلوؤں پر غور کیا ہے۔ تعلیمی مسائل پر توجہ دی ہے اور اپنے فلسفہ حیات میں تعلیم کو مناسب مقام دیا ہے انھوں نے اپنے عہد کے نظام تعلیم پر تنقیدی نگاہ ڈالی ہے۔ مدرسہ، طلبہ، اساتذہ اور نصاب تعلیم سب پر اظہار خیال کیا ہے۔ خرابیوں اور خوبیوں کا جائزہ لیا ہے اور بتایا ہے کہ زندگی کو کا میابی سے ہم کنار کرنے اور مزاحمتوں پر قابو پانے کے لیے کس قسم کی تعلیم اور نظام تعلیم کی ضرورت ہے۔ تعلیمی مسائل سے ان کی عملی دل چسپی کی بدولت ان کا شمار تعلیمی مفکرین میں بھی کیا جانے لگا ہے اور اہم تعلیمی مسائل کے سلسلے میں نہ صرف اندرون ملک بلکہ بیرون ملک بھی ان کے افکار و نظریات نے اہمیت حاصل کی ہے۔

برصغیر کے لوگوں کے افکار و نظریات پر اثر انداز ھونے والی چند عبقری شخصیوں میں سے بہ حیثيت شاعر و مفکر علامہ اقبال بھی ایک ہیں۔ لیکن وہ ایک مفکر کی بہ نسبت بہ حیثيت شاعر زیادہ اثر انداز ھوۓ۔

اقبال کے نظریہ کی ترجمانی میں مشکل اس لیے پیش آتی ہے کہ وہ اپنے خیالات زیادہ تر شاعری کی صورت میں پیش کرتے ہیں اور شاعری سے ہم ایک مربوط و منظبط نثر کا کام نہیں لے سکتے۔ شاعری میں اس بات کی گنجائش ھوتی ہے کہ ہر شخص اپنے ذہنی تصورات کے مطابق اس کی تعبیر و ترجمانی کرنے لگے۔ اس میں اس  بات کا خدشہ باقی رہتا ہے کہ اس کی ترجمانی میں آدمی غیر شعوری طور پر ہی سہی

معروضی نقطہ نظر کے بجاۓ موضوعی نقطہ نظر اختیار کرے۔ مولانا مودودی نے اپنے تعلیمی نظریات کے سلسلے میں کئ تحریریں تعلیمات، نیا نظام تعلیم،خطبہ تقسیم اسناد، ایک اسلامی یونیورسٹی کا خاکہ وغیرہ جھوڑی ہیں جن میں ان کے فکر کی مکمل تصویر نظروں کے سامنے آ جاتی ہے ۔ اقبال کے یہاں یہ سہولت ہمیں حاصل نہیں ہے۔ ہم نے یہاں اقبال کے تعلیمی نظریات و افکار کو ان کے شعری و نثری مجموعوں اور ان کے انگريزی خطبات کی مدد سے مرتب شکل میں پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔

یہ ایک حقیقت ہے کہ اقبال کا نقطہ نظر اسلامی اور ان کی فکر قرآنی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ علامہ اقبال کے نظریات اور عصر حاضر کی ایک عہد ساز شخصیت مولانا ابوالاعلی مودودی کے افکار و نظریات میں حیرت انگريز مماثلت پائی جاتی ہے۔ مثال کے طور پر مولانا مودودی نے اسلام کا جو نقطہ نظر " مسلہ قومیت" میں پیش کیا، وہی اقبال کے یہاں ملتا ہے۔ چند اشعار ملا حظہ ھوں۔

 ان تازہ خداؤں میں بڑا سب سے وطن ہے

جو پیر ہن اس کا ہے وہ مذہب کا کفن ہے

اور

یہ بت کہ تراشیدہ تہذیب نوی ہے۔ غارت گر کا شانہ دین نبوی ہے

 بازو ترا توحید کی قوت سے قوی ہے۔ اسلام ترا دیس ہے تو مصطفوی ہے 

نظارہ دیرینہ زمانے کو دیکھا دے

اے مصطفوک خاک میں اس بت کو ملا دے

ذیل میں مولانا مودودی کے اسلامی نظام تعلیم سے متعلق دوا اقتباسات دیۓ جاتے ہیں۔ جن سے ایسا انداز ھوتا ہے کہ یہ علامہ اقبال کے پیش کردہ اسلامی نظریہ تعلیم کا گویا ایک خلاصہ ہیں۔




Copyright © Bahoo.org 2008
14 Fortress Stadium, Lahore Cantt, Pakistan.
Ph: + 92 423 6623108