::*Urdu Books*::
::*Urdu Books*::
    Quick Search
 
Title Author Publisher
            Members Area
Username:
Password:
                                                                  Forget Password
Special Offer  
see all subjects
No Item in cart
Sports > Ninja  
Book Detail
 
 
Ninja
ننجا 
Author/Translator: Shahid Mehmood Dogar 
Price: $ 3.99
Format: Soft Cover, 240Pages, Weight: 180 gm
Product-Id: 1000581
Publisher: Khazina Ilm O Adab
Publish date: 2000, 1st Edition
Productid:1000581  
Quantity:
 

 

ننجا کیا ہے؟

طاقت ہر دور میں انسان کی ضرورت رہی ہے اور اس کی اہمیت سے کبھی بھی انکار نہیں کیا جا سکتا ۔ جب انسان کی ابتدائی زندگی نہایت کٹھن تھی تواس نے زندہ رہنے کے لے اپنے آپ کو جسمانی لحاظ سے مضبوط کرنے کے ساتھ مختلفر آفات سے نمٹنے کے لے کی طریقے ایجاد کے۔

جنگلی دور میں جانوروں سے نبرد آزمائی نے انسان کو ہتھیار کی طرف راغب کیا اور اس نے پتھر لکڑی اور لوہے کی مدد سے اپنی حفاظت کے لے ہتھیار بناے۔ رفتہ رفتہ انسانی تہذیب کا ارتقاء ھوا اور آج کے ترقی یافتہ انسان نے ایٹم نیوٹرون اور سکڈ میزائل اور دیگر خود کار ہتھیار ایجاد کر لے ہیں۔ طاقت کی کشش  نے کوموں کو حکمرانی کے ذائقے تک پہچا دیا۔ ایک وقت تھا کہ طاقت کو جسمانی حوالے سے بہت اہمیت حاصل تھی۔

قدیم طرز پہلوانی میں طاقت اہم کردار ادا کرتی تھی اور پہلوان کشتیوں کے مقابلوں میں ایک دوسرے سے برتری حاصل کرنے کے لے داؤ پیچ سکیھتے اور ساتھ اپنی خوراک اور صحت کا خصوصی خیال رکھتے تھے۔ داؤ پیچ وہ چیزیں ہیں جو جسمانی طاقت سے ہٹ کر ایک علیحدہ طاقت کی حیثيت رکھتے ہیں۔ جن کے سامنے خام جسمانی طاقت کمزور پڑ جاتی ہے۔ جوڈو کراٹے کا ماہر ایک دبلا پتلا بظاہر کمزور سا انسان لڑائی کے وقت بہت سے طاقتور لوگوں پر بھاری ھوتاہے۔

 

زمانہ قدیم میں جہاں انسان نے جنگلی جانوروں اور درندوں سے تحفظ کی خاطر لوازمات ایجاد کے وہاں اس نے جنگلی درندہ صفت اور ظالم انسانوں سے محفوظ رہنے کے لے بھی مختلف فنون ایجاد کۓ جوڈو کراٹے اور ديگر مارشل آرٹس انہی فنون کی مختلف شکلیں ہیں۔

ساتويں صدی عیسوی سے سولہویں صدی عیسوی تک جاپان میں جاگیر دارانہ نظام رائج تھا اور اس وقت کے جاگیرداروں نے اپنے اپنے پیشہ وادانہ فوجی رکھے ھوۓ تھے جہنیں سمورائی کہا جاتا ہے۔ غریب اور مزارع لوگوں پر مظالم کے اس درو میں کچھ ذہین لوگوں نے مل کر جنگلوں اور غاروں میں چھپ کر گوریلا انداز حرب ایجاد کے جن میں ایک ایک آدمی کو اتنے جنگی فنون اور تعلیم سے آراستہ کر دیا جاتا تھا کہ بوقت ضرورت اور مقابلہ وہ سینکڑوں افراد پر بھاری پڑتا تھا۔ اسی تعلیم و تربیت کو" ننجا" کہا جاتا تھا ۔

وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ" ننجا مارشل آرٹس" نے بھی ترقی کی اور آج یہ فن دنیا بھر کےنوجوانون کی توجہ کا مرکز بن چکا ہے۔ پاکستان میں بھی اس کھیل کے شائقین اس میں خاصی دلچسپی لے رہے ہیں۔ مارشل آرٹس کے فروغ اور ترقی کے لے مختلف شہروں میں ٹریننگ سنٹر کھل چکے ہیں جن میں اس فن  کے ماہرین اپنے طور پر اس فن کو عام کرنے میں مصروف ہیں۔

ننجا کیا ہے؟

ننجا دراصل ایک ایسا سٹائل ہےجو ایسے آدمی کو دیا جاتا ہے جو ننجستو کے تمام فنون میں مہارت حاصل کر کے مقرر کردہ معیار پر بھی پورا اترتا ہو۔ ننجا کا لفظی مطلب ہے " نائٹ وارئیر" ننجا عموما اپنے دشنموں پر رات کے وقت حملہ کیا کرتے تھے اور رات کو حملے کے لے بہترین خیال کیا کرتے تھے۔

ننجا کی ابتدائی تربیت:

ابتدائی سطح پر جسمانی مضبوطی اور پھر تیلے پن کی ورزشیں ھوتی ہیں اس کے بعد خالی ہاتھوں سے دفاع اور لڑائی کی تکنیک اور پھر مختلف ہتھیاروں کی تربیت دی جاتی ہے اس کے بعد جنگی حکمت عملی اور کمانڈو ایکشن کی تربیت کے ساتھ ذہنی اور روحانی تربیت انتہائی ضروری ہے۔




Copyright © Bahoo.org 2008
14 Fortress Stadium, Lahore Cantt, Pakistan.
Ph: + 92 423 6623108